اسٹارمر کے استعفے کے بعد ٹرمپ کا ردعمل، ان کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا
واشنگٹن،23جون(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے استعفے کے اعلان کے بعد ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی پالیسیوں کے باعث خود کو بہت نقصان پہنچایا ہے، خاص طور پر توانائی، امیگریشن اور امریکا کے ساتھ تعلقات ک
اسٹارمر کے استعفے کے بعد ٹرمپ کا ردعمل، ان کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا


واشنگٹن،23جون(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے استعفے کے اعلان کے بعد ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی پالیسیوں کے باعث خود کو بہت نقصان پہنچایا ہے، خاص طور پر توانائی، امیگریشن اور امریکا کے ساتھ تعلقات کے معاملے میں۔وائٹ ہاو¿س میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں کیئر اسٹارمر ایک ''اچھے انسان'' ہیں، تاہم انہوں نے برطانیہ کی توانائی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ نے بحرِ شمالی کے تیل کے ذخائر کو مکمل طور پر استعمال نہیں کیا اور ملک بھر میں ونڈ ٹربائنز (ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں) کی اجازت دے دی۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ برطانیہ اپنی توانائی کا بڑا حصہ ناروے سے درآمد کرتا ہے، جبکہ ناروے خود اپنی تیل کی ضروریات بحرِ شمالی سے پوری کرتا ہے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ برطانیہ کے پاس بحرِ شمالی میں تیل کے بڑے ذخائر موجود ہیں، لیکن ماحولیاتی وجوہات کی بنا پر انہیں استعمال نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کیئر اسٹارمر کے ممکنہ استعفے کی پیشگوئی کی تھی۔ان کے مطابق برطانوی رہنما ان کے ’کسی حد تک دوست‘ ہیں، تاہم وہ نیٹو اور ایران کے خلاف کارروائی کے معاملے میں امریکا کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کر سکے۔ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان قبرص میں واقع برطانوی اڈے اکروتری کے استعمال پر بھی اختلاف کا ذکر کیا، جہاں ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے اجازت دینے کے معاملے پر کشیدگی پیدا ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اس تاخیر سے مایوس ہوئے جس کے باعث برطانیہ نے ابتدا میں امریکا کی درخواست مسترد کی۔انہوں نے مزید کہا کہ بعد میں اجازت دے دی گئی، لیکن ان کے مطابق یہ فیصلہ دیر سے آیا اور یہ ایک ''غلط قدم'' تھا جس نے اسٹارمر کو سیاسی طور پر نقصان پہنچایا۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ کیئر اسٹارمر کے لیے نیک خواہشات رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق برطانوی رہنما کو دو بڑے مسائل درپیش تھے: توانائی اور امیگریشن (اور اس کے ساتھ جرائم)، اور انہی معاملات میں ان کی پالیسیوں نے انہیں شدید نقصان پہنچایا۔

دوسری جانب کیئر اسٹارمر نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ لیبر پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب کئی ماہ سے ان پر پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے دباو¿ بڑھ رہا تھا اور مقامی و علاقائی انتخابات میں مایوس کن نتائج کے بعد ان کی قیادت پر سوالات اٹھ گئے تھے۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کی جگہ تجربہ کار سیاستدان اینڈی برنہم لے سکتے ہیں، جو گریٹر مانچسٹر کے سابق میئر ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو وہ گزشتہ ایک دہائی میں برطانیہ کے ساتویں وزیراعظم بننے والے رہنما ہوں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande