
ممبئی ، 23 جون (ہ س)۔ مہاراشٹر کی لائف لائن سمجھی جانے والی مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ایس ٹی) کے تقریباً 86 ہزار ملازمین کے لیے مہایوتی حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے ریاستی سرکاری ملازمین کی طرز پر مہنگائی بھتہ، مکان کرایہ بھتہ اور سالانہ تنخواہ میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اعلان ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ اور ایس ٹی کارپوریشن کے چیئرمین پرتاپ سرنائک نے پیر کو ریاستی مقننہ میں کیا۔اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں بیان دیتے ہوئے سرنائک نے کہا کہ 22 جون کو نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی ہدایت پر ایس ٹی کی تمام مزدور تنظیموں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ منعقد کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایس ٹی محض ایک ٹرانسپورٹ ادارہ نہیں بلکہ مہاراشٹر کے عام شہریوں کی زندگی کی شہ رگ ہے۔ گزشتہ آٹھ دہائیوں سے لال پری ریاست کے دور دراز علاقوں تک مسلسل خدمات انجام دے رہی ہے اور اس خدمت کا اصل سہارا ایس ٹی کے ملازمین ہیں، جو گرمی، بارش اور ہر قسم کے بحران میں اپنے خاندان سے زیادہ عوامی خدمت کو ترجیح دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس، نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور نائب وزیر اعلیٰ سنیتراتائی پوار کی قیادت والی مہایوتی حکومت نے ملازمین کے جذبات اور ان کے جائز مطالبات کا احترام کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت مہنگائی بھتہ 53 فیصد سے بڑھا کر 58 فیصد، مکان کرایہ بھتہ 8-16-24 فیصد سے بڑھا کر 10-20-30 فیصد اور سالانہ تنخواہ میں اضافے کی شرح 2 فیصد سے بڑھا کر 3 فیصد کر دی گئی ہے۔سرنائک نے کہا کہ اس فیصلے سے ایس ٹی کارپوریشن پر ہر ماہ تقریباً 45 کروڑ روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا، لیکن ملازمین کے حوصلے بلند کرنا اور ان کے جائز حقوق کو تسلیم کرنا اس سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت مستقبل میں مہنگائی بھتہ، مکان کرایہ بھتہ، سالانہ تنخواہ میں اضافے کی بقایا رقم اور دیگر قانونی واجبات سمیت تقریباً 5,649 کروڑ روپے کی ادائیگی کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔وزیر ٹرانسپورٹ نے ملازمین کی تمام تنظیموں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مطالبات کے لیے جدوجہد کے باوجود صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ایکشن کمیٹی کی قیادت کرنے والے ارکان اسمبلی گوپی چند پڈلکر اور سدا بھاؤ کھوت، سابق وزیر ٹرانسپورٹ انیل پرب، رکن اسمبلی بھائی جگتاپ، رکن اسمبلی پروین دریکر اور ایکشن کمیٹی کے دیگر اراکین کی بھی ستائش کی، جنہوں نے مسلسل ملازمین کے مسائل اور جذبات حکومت تک پہنچانے کا کام کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے اس فیصلے کے بعد 29 جون کو مجوزہ دھرنا تحریک واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو حکومت اور ملازمین کے درمیان باہمی اعتماد کی کامیابی کی علامت ہے۔پرتاپ سرنائک نے کہا کہ آج کا فیصلہ صرف تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ نہیں بلکہ اعتماد، احترام اور انسانی حساسیت کی جیت ہے۔ یہ ایس ٹی کے ہر ڈرائیور، کنڈکٹر، تکنیکی عملے، افسران اور دیگر ملازمین کی محنت اور خدمات کا مناسب اعتراف ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جب ملازمین مطمئن ہوں گے تو لال پری مزید مؤثر، زیادہ اعتماد کے ساتھ اور بہتر کارکردگی کے ذریعے مہاراشٹر کے ہر گاؤں تک اپنی خدمات پہنچا سکے گی۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ حکومت ایس ٹی کارپوریشن کو مالی طور پر مضبوط، جدید اور زیادہ مسافر دوست ادارہ بنانے کے لیے مسلسل اقدامات جاری رکھے گی۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ر
ہندوستان سماچار / جاوید این اے