
ممبئی ، 23 جون (ہ س) -مہاراشٹر اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوران نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اپوزیشن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے پاس اب کوئی سنجیدہ مسئلہ باقی نہیں رہا اور وہ حالیہ سیاسی شکست کے صدمے سے اب تک باہر نہیں آ سکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں لگنے والے سیاسی جھٹکے نے اپوزیشن کا ذہنی توازن بگاڑ دیا ہے اور آنے والے دنوں میں انہیں مزید جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایوان میں خطاب کرتے ہوئے شندے نے اسپیکر کے کام کاج پر سوال اٹھانے والے اپوزیشن اراکین کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اسمبلی کی کارروائی مکمل طور پر قواعد و ضوابط کے مطابق چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر نے اپوزیشن کو اپنے سوالات اور نکات پیش کرنے کے لیے بھرپور مواقع فراہم کیے، لیکن جواب سننے کے بجائے اپوزیشن نے ہنگامہ آرائی اور سیاسی ڈرامہ بازی کو ترجیح دی۔اپوزیشن کی غیر حاضری پر تنقید کرتے ہوئے شندے نے کہا کہ حکومت سے سوال پوچھنا اور جب جواب دینے کی باری آئے تو ایوان سے واک آؤٹ کر جانا اپوزیشن کی پرانی عادت بن چکی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ سوال پوچھ کر بھاگ جانے والے ہمیں جمہوریت اور پارلیمانی روایات کا درس نہ دیں۔کسانوں کے مسائل پر حکومت کو گھیرنے کی کوششوں کا جواب دیتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مہایوتی حکومت نے اب تک کسانوں کے لیے 45 ہزار کروڑ روپے کی مالی مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے نقصانات کے معاوضے کے معیار میں تبدیلی کرتے ہوئے امدادی رقم دوگنا کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے تاکہ متاثرہ کسانوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔شندے نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کے ساتھ ناانصافی کی یا انہیں مدد فراہم نہیں کی، یہ دعویٰ سراسر گمراہ کن ہے۔ انہوں نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عوام حقیقت سے واقف ہیں اور حکومت کی کارکردگی کو بخوبی جانتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہاراشٹر کے عوام نے اپوزیشن کو اس کی اصل سیاسی حیثیت دکھا دی ہے۔ اپوزیشن کی سیاسی جگہ روز بروز سکڑتی جا رہی ہے جبکہ مہایوتی حکومت پر عوام کا اعتماد مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن بے بنیاد الزامات اور ہنگامہ آرائی کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ایوان کی حرمت اور اسپیکر کے اختیارات کا حوالہ دیتے ہوئے شندے نے کہا کہ اسپیکر کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے اور اس پر سوال اٹھانا مناسب نہیں۔ انہوں نے اپوزیشن سے سوال کیا کہ انہیں اسپیکر کے فیصلوں پر اعتراض کرنے کا اختیار کس نے دیا ہے۔ اپنے خطاب کے دوران شندے نے 2019 سے 2022 کے درمیان کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت اپوزیشن میں شامل کئی رہنما ایوان کی کارروائی میں باقاعدگی سے شریک نہیں ہوتے تھے۔ انہوں نے اپوزیشن کو خود احتسابی کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ جو شیشے کے گھروں میں رہتے ہیں، وہ دوسروں کے گھروں پر پتھر نہیں پھینکتے۔نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اپنے جارحانہ خطاب میں اپوزیشن کے الزامات کا ایک ایک کر کے جواب دیتے ہوئے حکومت کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا، جس کے باعث کچھ دیر کے لیے ایوان کا ماحول خاصا گرم ہو گیا۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے