مرکزی حکومت کی استاداسکیم اقلیتی کاریگروں کو بااختیار بنانے کی جانب اہم قدم
لاتور ، 23 جون (ہ س)۔ حکومتِ ہند کی وزارتِ اقلیتی امور نے ملک کی روایتی فنون اور دستکاری کے قیمتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے خصوصی ’’استاد‘‘پروگرام شروع کیا ہے۔’’استاد‘‘ کا مکمل نام اپ گریڈنگ دی اسکلز اینڈ ٹریننگ اِن ٹری
Minority Ustad Scheme


لاتور ، 23 جون (ہ س)۔ حکومتِ ہند کی وزارتِ اقلیتی امور نے ملک کی روایتی فنون اور دستکاری کے قیمتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم قدم اٹھاتے ہوئے خصوصی ’’استاد‘‘پروگرام شروع کیا ہے۔’’استاد‘‘ کا مکمل نام اپ گریڈنگ دی اسکلز اینڈ ٹریننگ اِن ٹریڈیشنل آرٹس اینڈ کرافٹس فار ڈیولپمنٹہے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے کاریگروں، دستکاروں، ہنرمند فنکاروں اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔اس اسکیم کے تحت روایتی فنون، دستکاری اور ہنرمندی کو جدید منڈیوں سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کاریگروں کو تربیت، مہارت میں اضافہ، مارکیٹنگ کی سہولت اور روزگار کے نئے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنے فن کو بہتر انداز میں پیش کر سکیں اور معاشی طور پر مستحکم بن سکیں۔ خصوصی طور پر نوجوان نسل کو روایتی فنون اور دستکاری کی جانب راغب کر کے اس ثقافتی ورثے کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا اور اقلیتی برادری کے افراد کو معاشی طور پر بااختیار بنانا اس اسکیم کا اہم مقصد ہے۔’’استاد‘‘ اسکیم نہ صرف ملک کے ثقافتی اور روایتی ورثے کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے بلکہ اقلیتی طبقے کے نوجوانوں کو خود کفیل اور بااختیار بنانے میں بھی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande