
نئی دہلی، 23 جون (ہ س)۔ چھتیس گڑھ کے مہاسمد ضلع میں سرائی پالی علاقے کے بلاوڈا بیلمُنڈی ہیرا بلاک میں کیے گئے سائنسی دریافت کے دوران پانچ اعلیٰ معیار کے ہیروں کا پتہ لگایا گیا ہے جن کا مجموعی وزن تقریباً 1.22 کیرٹ ہے۔
قومی معدنی ترقیاتی کارپوریشن (این ایم ڈی سی) اور چھتیس گڑھ معدنی ترقیاتی کارپوریشن (سی ایم ڈی سی) کی مشترکہ کمپنی این ایم ڈی سی-سی ایم ڈی سی لمیٹڈ نے پیر کی شام اس دریافت کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔
کمپنی نے بتایا ہے کہ بلاوڈا بیلمُنڈی ہیرا بلاک میں 200 ٹن معدنی مواد کی پروسیسنگ سے پانچ ہیروں کی برآمد ہوئی ہے۔ ان ہیروں کا مجموعی وزن 1.22 کیرٹ ہے۔ ماہرین اسے ایک اہم کامیابی قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے علاقے میں بڑے پیمانے پر ہیرا ذخائر کی موجودگی کے امکانات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
کمپنی کے مطابق علاقے میں اسٹریم سیڈیمنٹ سیمپلنگ، جیو فزیکل سروے اور 500 میٹر گہری ایکسپلورٹری ڈرلنگ کے بعد ممکنہ ہیرا زون کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس بنیاد پر 200 ٹن مواد مدھیہ پردیش کے پنا میں واقع ہیرا پروسیسنگ پلانٹ بھیجا گیا، جہاں جانچ کے دوران پانچ ہیروں کی برآمد ہوئی۔ کمپنی نے 22 جون کو جاری ایک باضابطہ خط میں اس کی تصدیق کی ہے۔
خط میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ این ایم ڈی سی-سی ایم ڈی سی لمیٹڈ کے پاس ہیروں کو محفوظ رکھنے کی سہولت موجود نہیں ہے، اس لیے تمام پانچ ہیروں کو این ایم ڈی سی کے پنا میں واقع محفوظ ذخیرہ گاہ میں رکھ دیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق ان پانچ ہیروں میں دو جیم معیار کے سفید ہیروں شامل ہیں جن کا وزن 0.19 اور 0.06 کیرٹ ہے اور یہ عام ہیروں کے مقابلے میں کہیں بہتر ہیں۔ اس کے علاوہ ایک زرد رنگ کا ہیرا 0.32 قیراط جبکہ دو بھورے رنگ کے ہیروں کا وزن 0.59 اور 0.06 کیرٹ ہے۔ معدنی ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں جیم معیار کے ہیروں کی موجودگی انتہائی مثبت اشارہ ہے اور یہ علاقے میں بڑے پیمانے پر ہیرا ذخائر کے امکانات کو ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت آنے والے برسوں میں چھتیس گڑھ کو ملک کی اہم ہیرا پیدا کرنے والی ریاستوں کی صف میں لا سکتی ہے۔
جیم معیار کے ہیرا سب سے اعلیٰ معیار کے ہوتے ہیں۔ یہ زیورات بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ان کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ان میں بہترین چمک، شفافیت اور بہتر رنگ ہوتا ہے۔ غیر جیم ہیرا صنعتی کاموں جیسے کاٹنے والے اوزار کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی نئے ہیرا خطے کی شناخت چھوٹے نمونوں سے ہی شروع ہوتی ہے۔ اس لیے پانچ ہیروں کی یہ دریافت اگرچہ تعداد کے لحاظ سے کم لگتی ہے، لیکن ارضیاتی اعتبار سے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اس سے مستقبل میں مزید وسیع سروے اور ممکنہ تجارتی کان کنی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
بھارت دنیا کا سب سے بڑا ہیرا تراشنے اور پالش کرنے کا مرکز ہے لیکن خام ہیروں کے لیے اب بھی بڑی حد تک درآمد پر انحصار کرتا ہے۔ چھتیس گڑھ میں ایسی دریافت خود کفیل بھارت کے ہدف کو نئی رفتار دے سکتی ہے۔ کامیاب تجارتی کان کنی شروع ہونے پر ریاست میں سرمایہ کاری، روزگار اور محصولات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
وزیر اعلیٰ وِشنو دیو سائے نے اس کامیابی پر کہا کہ مہاسمد میں ہیروں کی دریافت چھتیس گڑھ کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔ یہ دریافت ریاست کی معدنی دولت کو ظاہر کرتی ہے اور ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے امکانات کے دروازے کھولتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد