بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالے گا : ایران کادعویٰ
تہران،23جون(ہ س)۔امریکہ اور عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بلا معاوضہ کھولنے کی یقین دہانیوں کے بیچ، ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اعلان کیا ہے کہ تہران اس آبی گزرگاہ کا انتظام سنبھالے گا، جو 28 فروری کو ایران اور دوسری جانب امریکہ
بین الاقوامی قوانین کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالے گا : ایران کادعویٰ


تہران،23جون(ہ س)۔امریکہ اور عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بلا معاوضہ کھولنے کی یقین دہانیوں کے بیچ، ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اعلان کیا ہے کہ تہران اس آبی گزرگاہ کا انتظام سنبھالے گا، جو 28 فروری کو ایران اور دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے بند تھی۔ تاہم گزشتہ بدھ کو امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کے بعد اسے حال ہی میں دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔قالیباف نے سوئٹزرلینڈ میں جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا کہ آبنائے ہرمز اب کبھی جنگ سے پہلے والے حالات میں واپس نہیں جائے گی اور ایران بین الاقوامی قوانین کے مطابق اس کا انتظام چلائے گا۔ سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی اِرنا کی رپورٹ کے مطابق قالیباف نے ٹیلی گرام پر جاری کی گئی ایک وڈیو میں کہا کہ بورگن اشتوک ریزورٹ میں ہونے والی بات چیت کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر آبنائے ہرمز، لبنان، تیل کو پابندیوں سے استثناٰ دینے اور منجمد اثاثوں کی رہائی کے معاملے میں پیش رفت کا ذکر کیا۔ تاہم ساتھ یہ بھی کہا کہ یہ کام کی ابھی ابتدا ہے اور کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔

سوئٹزرلینڈ میں تکنیکی مذاکرات کے نتیجے میں چار ورکنگ گروپس کی تشکیل، ایرانی تیل کی فروخت کے لیے امریکی لائسنس کا اجرا اور 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی رہائی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے چار خصوصی ورکنگ گروپس کے قیام کا اعلان کیا، جو پابندیاں ہٹانے، ایٹمی امور، تعمیر نو اور نگرانی و نفاذ کے امور دیکھیں گے۔ آبادی نے یہ بھی بتایا کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ گزرگاہ اور پاکستان اور قطر کی شمولیت کے ساتھ لبنان میں تنازعات روکنے کے یونٹ کے قیام پر اتفاق ہوا ہے۔مالیاتی محاذ پر 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کو 6 ، 6 ارب ڈالر کی دو اقساط میں جاری کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ ایران اور امریکہ نے 18 جون کی رات فاصلاتی طور پر مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کیے تھے۔ اس میں 28 فروری کو شروع ہونے والی فوجی کشیدگی کے خاتمے اور واشنگٹن کی جانب سے بحری محاصرہ اٹھانے و تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنے کے ٹائم ٹیبل کا تعین کیا گیا تھا۔امریکہ نے پیر کے روز دو ماہ کے لیے ایرانی تیل پر پابندیاں معطل کرنے کا اعلان کیا، جس کا مقصد سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے بعد ایران کی جانب سے جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے انسپکٹرز کو دعوت دینا ہے۔ نیز تہران اور واشنگٹن نے آبنائے میں حادثات اور غلط فہمیوں سے بچنے کے لیے ایک مواصلاتی لائن کے قیام پر بھی اتفاق کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande