
ناندیڑ ، 23 جون (ہ س)۔ ایک بیدار والدین نے مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے کمشنر توکارام منڈھے کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کریانہ دکانوں، سپر مارکیٹوں اور دیگر فروختی مراکز کے باہر بچوں کو راغب کرنے کے لیے لگائے جانے والے چپس، کُرکُرے اور دیگر جنک فوڈ کے پیکٹوں کی نمائش پر ضابطہ بندی کی جائے۔خط میں کہا گیا ہے کہ بیشتر کریانہ دکانوں اور سپر مارکیٹوں کے داخلی دروازوں یا بیرونی حصوں میں مختلف اقسام کے جنک فوڈ کے رنگ برنگے پیکٹ انتہائی نمایاں اور دلکش انداز میں آویزاں کیے جاتے ہیں۔ اس وجہ سے دکانوں میں آنے جانے والے کم عمر بچوں کی توجہ آسانی سے ان مصنوعات کی جانب مبذول ہو جاتی ہے اور وہ اپنے والدین سے ان اشیا کی خریداری کے لیے اصرار کرنے لگتے ہیں۔والدین کے مطابق کم غذائیت اور زیادہ پروسیس شدہ ایسے غذائی اجناس بچوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ بہت سے بچے جنک فوڈ کے عادی ہوتے جا رہے ہیں اور متوازن و صحت بخش غذا سے دور ہوتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں موٹاپا، غذائی قلت، دانتوں کے امراض اور دیگر صحت سے متعلق مسائل پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ مکتوب میں واضح کیا گیا ہے کہ اس مطالبے کا مقصد جنک فوڈ کی فروخت پر پابندی عائد کرنا نہیں بلکہ اس کی نمائش کے لیے ضابطے اور رہنما اصول وضع کرنا ہے۔ والدین نے تجویز دی ہے کہ ایسی مصنوعات کو بچوں کی فوری نظر میں آنے والی جگہوں پر رکھنے کے بجائے دکانوں کے اندرونی حصے میں رکھا جائے یا پھر ان کی نمائش کے لیے الگ رہنما خطوط مرتب کیے جائیں۔مکتوب میں ایف ڈی اے سے اپیل کی گئی ہے کہ بچوں کی صحت کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور مناسب قواعد و ضوابط نافذ کیے جائیں تاکہ بچوں میں جنک فوڈ کی بڑھتی ہوئی رغبت پر قابو پایا جا سکے۔ دریں اثنا، والدین اور سماجی حلقوں کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن اس مکتوب کا کس حد تک نوٹس لیتا ہے اور اس سلسلے میں کیا عملی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے