چندرپور میں شیر کے حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو مستقل ملازمت دی جائے؛ وجے وڈیٹیوار کا مطالبہ
ممبئی ، 23 جون (ہ س) ، کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے قائد وجے وڈیٹیوار نے اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے چندرپور اور گڑچرولی سمیت ودربھ کے جنگلاتی علاقوں میں بڑھتے ہوئے شیر-انسان تصادم کے مسئلے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری اور
چندرپور میں شیر کے حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو مستقل ملازمت دی جائے؛ وجے وڈیٹیوار کا مطالبہ


ممبئی ، 23 جون (ہ س) ، کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے قائد وجے وڈیٹیوار نے اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے چندرپور اور گڑچرولی سمیت ودربھ کے جنگلاتی علاقوں میں بڑھتے ہوئے شیر-انسان تصادم کے مسئلے کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیندو پتا، مہوا کے پھول اور دیگر جنگلاتی پیداوار جمع کرنے کے لیے جنگلوں میں جانے والے شہریوں پر بار بار شیروں کے حملے ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی خاندان تباہ ہو چکے ہیں۔وڈیٹیوار نے کہا کہ ان کے حلقۂ انتخاب میں شیر کے حملے میں چار خواتین ہلاک ہوئیں، جس سے ان کے خاندان بے سہارا ہو گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ شیر ہمارے لیے نعمت ہے یا مصیبت؟ اور کہا کہ جنگلات کی حفاظت مقامی قبائلی اور دیہی باشندوں نے کی، لیکن آج انہی کی جانیں خطرے میں ہیں۔ ہزاروں خاندان جنگلاتی وسائل پر مبنی روزگار پر انحصار کرتے ہیں اور تیندو پتا، مہوا کے پھول اور دیگر جنگلاتی اشیا جمع کرنے کے لیے انہیں جنگل جانا ہی پڑتا ہے، اس لیے صرف مالی امداد سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس کے دوران وڈیٹیوار نے حکومت سے پوچھا کہ ریاست میں شیروں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، تو اضافی شیروں کی بازآبادکاری یا انہیں دیگر محفوظ علاقوں میں منتقل کرنے کے لیے حکومت کی کیا پالیسی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جنگلات کی گنجائش سے زیادہ شیروں کی موجودگی کے باعث وہ کھیتوں اور انسانی بستیوں تک پہنچ رہے ہیں، جس سے تصادم کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت واضح کرے کہ شیروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مؤثر انتظام کے لیے کون سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وڈیٹیوار نے مزید کہا کہ جب کسی خاندان کا کفیل شیر کے حملے میں ہلاک ہو جاتا ہے تو پورا خاندان شدید بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔ 25 لاکھ روپے کی مالی امداد ملنے کے باوجود مرنے والا واپس نہیں آ سکتا، اس لیے ایسے خاندانوں کے اہل افراد کو ان کی تعلیمی اہلیت کے مطابق مستقل سرکاری ملازمت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جنگلاتی علاقوں سے متصل دیہی اور قبائلی خاندانوں کو سال بھر کے لیے 12 گیس سلنڈر مفت فراہم کیے جائیں تاکہ ایندھن کے لیے جنگل جانے کی ضرورت کم ہو اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے پہلے سے دی جانے والی سرکاری امداد میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔اس پر جواب دیتے ہوئے ریاستی وزیر جنگلات گنیش نائک نے کہا کہ شیر کے حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو مستقل ملازمت دینے کی تجویز زیر غور ہے اور اسے جلد کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ریاستی حکومت مختلف اقدامات پر عمل کر رہی ہے اور شیر-انسان تصادم کو کم کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ گنیش نائک نے مزید بتایا کہ حکومت ودربھ کے ہر ضلع میں ٹائیگر سفاری شروع کرنے پر بھی غور کر رہی ہے، جبکہ شیروں کو دیگر اضلاع میں منتقل کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ جنگلاتی علاقوں پر دباؤ کم ہو اور انسانی آبادیوں میں شیروں کی آمد کو روکا جا سکے۔وجے وڈیٹیوار نے زور دے کر کہا کہ اس مسئلے کو صرف جنگلی حیات کے تحفظ کے تناظر میں نہیں بلکہ انسانی جانوں، روزگار اور متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کے مسئلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس حساس مسئلے کے حل کے لیے فوری، ٹھوس اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں انسانی جانوں کا نقصان روکا جا سکے۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande