
پونے، 23 جون (ہ س)۔ پونے کے فرسنگی-منترواڑی علاقے میں واقع ایچ۔ وکاس اسٹیل کمپنیکے دفتر پر پیر کی دیر رات نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کیے جانے کا چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس واقعے کے بعد پونے کی تاجر اور کاروباری برادری میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعلقہ تاجر کو گزشتہ چند دنوں سے مبینہ طور پر تاوان طلب کرنے کے لیے دھمکی آمیز فون کالز موصول ہو رہی تھیں۔ ان دھمکیوں کو نظر انداز کیے جانے پر ناراضگی کے باعث یہ حملہ کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس کے مطابق دفتر کے احاطے میں گولیوں کے نشانات پائے گئے ہیں، جس کے بعد پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر پنچنامہ کیا اور تفتیش شروع کر دی ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک پوسٹ میں آرجو بشنوئی، شبھم لونکر اور ٹائسن بشنوئی کے ناموں کا ذکر کرتے ہوئے فائرنگ کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس پوسٹ میں امول چماریا اور سنی چماریا کے نام بھی شامل ہونے کی بات کہی جا رہی ہے۔ تاہم اہم بات یہ ہے کہ پولیس نے اب تک نہ تو اس وائرل پوسٹ کی صداقت کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس بات کی کہ آیا اس واقعے کے پیچھے واقعی بشنوئی گینگ کا ہاتھ ہے۔پولیس نے علاقے کے سی سی ٹی وی فوٹیج ضبط کر لیے ہیں اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ فائرنگ کا یہ واقعہ بھتہ خوری، کاروباری تنازع یا کسی اور وجہ سے پیش آیا، اس زاویے سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس واقعے کے بعد پونے کے صنعت و تجارت سے وابستہ حلقوں میں سکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور شہر میں قانون و انتظام کی صورتحال پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / جاوید این اے