
علی گڑھ, 23 جون (ہ س) سابق رکنِ پارلیمنٹ اور سماجوادی پارٹی کے سینئر رہنما چودھری وجیندر سنگھ نے آج ایک پریس کانفرنس میں موجودہ رکنِ پارلیمنٹ ستیش گوتم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں کو اپنی زبان اور طرزِ عمل میں شائستگی اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب اور برادریوں کے تہواروں اور جذبات کو نظر انداز کرنا ملک کی سیکولر اور ہم آہنگی پر مبنی شناخت کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک عوامی نمائندے کو تمام مذاہب اور طبقات کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اس معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی طرزِ عمل سے سبق لیا جا سکتا ہے، جو مختلف ممالک اور مذاہب کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
چودھری وجیندر سنگھ نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے حالیہ دورۂ علی گڑھ اور ترقیاتی اعلانات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام کے سامنے ترقی کے نام پر دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ زمینی حقیقت مختلف ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بدعنوانی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے اور کسان، مزدور اور نوجوان اپنے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں۔
سابق رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ علی گڑھ میں جن ترقیاتی منصوبوں کا آج ذکر کیا جا رہا ہے، ان میں سے متعدد منصوبوں کی بنیاد ان کے دورِ نمائندگی میں رکھی جا چکی تھی۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت انہی منصوبوں کو نئے انداز میں پیش کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام گزشتہ انتخابات کے حالات سے بخوبی واقف ہیں اور انہیں حقائق دہرانے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کے حل اور حقیقی ترقی ہی سیاست کا اصل مقصد ہونا چاہیے۔
پریس کانفرنس میں سماجوادی پارٹی لوہیا واہنی کے ریاستی سیکریٹری فرقان مرزا بھی موجود تھے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ