
نئی دہلی، 23 جون (ہ س)۔ دہلی کے مہرولی علاقے میں فٹ پاتھ پر اپنے خاندان کے ساتھ سو رہی ایک بچی کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا، عصمت دری اور پھر قتل کر دیا گیا۔ دہلی پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی صبح تقریباً 5:30 بجے پیش آیا۔ متاثرہ بچی اپنے اہل خانہ کے ساتھ فٹ پاتھ پر سو رہی تھی۔ ملزم مبینہ طور پر 11 سالہ بچی کو اپنے ساتھ لے گیا۔ صبح اس کی گمشدگی کا پتہ چلنے پر اہل خانہ نے پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس کی ایک ٹیم نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر تفتیش شروع کردی۔ ابتدائی معلومات میں شبہ ہے کہ ایک ٹیکسی ڈرائیور بچی کو لے گیا تھا۔ جس کے بعد پولیس نے علاقے کی وسیع تلاشی لی اور تحقیقات میں فرانزک ماہرین کو شامل کیا۔ تحقیقات کے دوران پولیس نے مہرولی اور ہریانہ کی طرف جانے والی سڑکوں پر نصب کئی سی سی ٹی وی کیمروں سے فوٹیج کی جانچ کی۔ تکنیکی شواہد اور مقامی طور پر جمع کی گئی معلومات کی بنیاد پر، پولیس ملزم کی شناخت کرنے میں کامیاب رہی۔
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور مقامی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ملزم کا سراغ لگا کر پیر کی دیر رات گرفتار کر لیا گیا۔ ملزم سے اس وقت وسیع تر پوچھ گچھ جاری ہے۔ دریں اثنا، لڑکی کی لاش دہلی گروگرام سرحد کے قریب جنگلاتی علاقے سے برآمد ہوئی ہے۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
ملزم کے خلاف تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی متعلقہ دفعات اور جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ (پاکسو) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ آج (منگل) بچی کے اہل خانہ صفدر جنگ اسپتال پہنچے، جہاں پوسٹ مارٹم اور دیگر قانونی کارروائیاں مکمل کی جارہی ہیں۔ پولیس کا خیال ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے موت کی وجہ اور واقعے سے متعلق دیگر اہم حقائق سامنے آئیں گے۔ ان کی ٹیم اس بات کی بھی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا اس گھناو¿نے جرم میں ملزم کے علاوہ کوئی اور ملوث تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan