سرکاری ثانوی اسکولوں میں انتظامی کمیٹیاں قائم ہوں گی، والدین کو ملے گا فیصلہ سازی میں اہم کردار
سرکاری ثانوی اسکولوں میں انتظامی کمیٹیاں قائم ہوں گی، والدین کو ملے گا فیصلہ سازی میں اہم کردار علی گڑھ، 22 جون (ہ س)۔ سرکاری ثانوی اسکولوں میں تعمیراتی کاموں، بنیادی سہولیات کی بہتری، طلبہ فلاحی منصوبوں اور تعلیمی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے جلد
نورنگی لال


سرکاری ثانوی اسکولوں میں انتظامی کمیٹیاں قائم ہوں گی، والدین کو ملے گا فیصلہ سازی میں اہم کردار

علی گڑھ، 22 جون (ہ س)۔

سرکاری ثانوی اسکولوں میں تعمیراتی کاموں، بنیادی سہولیات کی بہتری، طلبہ فلاحی منصوبوں اور تعلیمی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے جلد ہی اسکول انتظامی کمیٹیاں (SMC) تشکیل دی جائیں گی۔ نئی پالیسی کے تحت کمیٹی کا صدر کسی افسر یا استاد کے بجائے والدین میں سے منتخب کیا گیا سرپرست ہوگا، جبکہ اسکول کا پرنسپل رکن سیکریٹری کی ذمہ داری سنبھالے گا۔ کمیٹی کی مدت 2 سال مقرر کی گئی ہے۔

ضلع علی گڑھ میں اس وقت 39 سرکاری ثانوی اسکول کام کر رہے ہیں۔ محکمہ ثانوی تعلیم، پریاگ راج نے ہدایت جاری کی ہے کہ نئے تعلیمی سیشن کے دوران تمام سرکاری اسکولوں میں انتظامی کمیٹیوں کی تشکیل لازمی طور پر مکمل کی جائے۔ ہدایات کے مطابق کمیٹی کے اراکین کی تعداد اسکول میں طلبہ کی تعداد کے لحاظ سے مقرر ہوگی۔ 100 تک طلبہ والے اسکولوں میں 15 اراکین، 100 سے 500 طلبہ والے اسکولوں میں 20 اراکین جبکہ 500 سے زائد طلبہ والے اداروں میں 25 اراکین شامل کیے جائیں گے۔ کمیٹی میں والدین، اساتذہ، مقامی اداروں کے نمائندے اور سماجی شخصیات کو بھی جگہ دی جائے گی۔

یہ کمیٹیاں اسکولوں کی ترقیاتی منصوبہ بندی، عمارتوں کی تعمیر و مرمت کے معیار کی نگرانی، طلبہ کی حاضری میں اضافہ، داخلہ مہم کو مؤثر بنانے اور مختلف سرکاری اسکیموں کے بہتر نفاذ میں تعاون کریں گی۔ ضرورت کے مطابق تعمیراتی کاموں کی نگرانی کے لیے ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی جا سکے گی۔

ڈویژنل جوائنٹ ڈائریکٹر (ثانوی تعلیم) منوج گیری کے مطابق اس اقدام سے اسکولوں میں شفافیت، جوابدہی اور مقامی سطح پر نگرانی کے نظام کو مزید مضبوطی ملے گی، جبکہ والدین کی براہِ راست شمولیت سے تعلیمی ماحول میں بہتری آئے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande