قطر صنعتی زون میں بڑا حادثہ ، 54 زخمی، 18 افراد کی تلاش جاری
دوحہ،22جون(ہ س)۔اتوار کی شام قطر کے صنعتی علاقے راس لفان میں ایک دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں 54 افراد زخمی جبکہ 18 افراد لاپتہ ہو گئے۔ یہ علاقہ دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ قطری وزارتِ داخلہ نے پیر کے روز ’ا
قطر صنعتی زون میں بڑا حادثہ ، 54 زخمی، 18 افراد کی تلاش جاری


دوحہ،22جون(ہ س)۔اتوار کی شام قطر کے صنعتی علاقے راس لفان میں ایک دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں 54 افراد زخمی جبکہ 18 افراد لاپتہ ہو گئے۔ یہ علاقہ دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ قطری وزارتِ داخلہ نے پیر کے روز ’ایکس ‘پر جاری بیان میں کہا کہ راس لفان صنعتی زون کے ایک پلانٹ میں پیش آنے والے واقعے میں مجموعی طور پر 54 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے 18 لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔وزارت نے فوری طور پر زخموں کی شدت کی تفصیل نہیں بتائی۔اتوار کی رات جاری ابتدائی بیان میں وزارت نے کہا تھا کہ صنعتی علاقے کے ایک کارخانے میں ’تکنیکی خرابی کے باعث اندرونی دھماکہ ‘ہوا۔بعد ازاں بیان میں وضاحت کی گئی کہ یہ واقعہ ''فنی خرابی'' کا نتیجہ تھا اور اس میں کئی افراد زخمی ہوئے، تاہم کسی خطرناک گیس کے اخراج یا لیکیج کی اطلاع نہیں ملی جو انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکے۔عینی شاہد صحافی کے مطابق راس لفان سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب میں آسمان پر شعلے اور دھوئیں کے بادل دیکھے گئے، جو کافی دور تک نظر آ رہے تھے۔قطر انرجی (سرکاری کمپنی) نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حادثہ راس لفان انڈسٹریل سٹی میں آپریشنز کے آغاز کے دوران پیش آیا، جس کے نتیجے میں برزان پلانٹ میں دھماکہ اور آگ لگ گئی۔قطری حکام نے زور دیا ہے کہ اتوار کو ہونے والا دھماکہ فنی خرابی کے باعث پیش آیا۔تاہم راس لفان کی یہ تنصیب پہلے بھی خطے میں کشیدگی کے دوران متاثر ہو چکی ہے، جب ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں کارروائیاں کی تھیں۔ان حملوں کے دوران خلیجی خطے کے کئی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جن میں راس لفان کی سہولیات بھی شامل تھیں۔اس صورتحال کے بعد قطر نے مارچ کے آغاز میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداوار عارضی طور پر معطل کر دی تھی۔قطر دنیا کے بڑے ایل این جی برآمد کنندگان میں شامل ہے، جہاں امریکہ، آسٹریلیا اور روس بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مارچ میں ہونے والے حملوں کے بعد قطر نے 2 مارچ کو پیداوار روک دی تھی، جب ایرانی ڈرون حملوں سے اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا۔قطر کے وزیرِ توانائی سعد بن شریدة الکعبی کے مطابق 18 مارچ کو ہونے والے مزید حملوں کے نتیجے میں نقصانات میں اضافہ ہوا، جس سے مائع قدرتی گیس کی برآمدی صلاحیت میں تقریباً 17 فیصد کمی واقع ہوئی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان تنصیبات کی مکمل مرمت اور بحالی میں تین سے پانچ سال لگ سکتے ہیں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande