پروفیسرشہاب الدین نے تھائی لینڈ میں بین الاقوامی سمپوزیم میں جدید این ایم آر تحقیق پیش کی
علی گڑھ، 22 جون(ہ س)۔ ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اطلاقی کیمیا کے پروفیسر شہاب الدین نے تھائی لینڈ کے شہر کرابی میں منعقدہ باوقار سی آئی پی اے سی سمپوزیم میں ہائبرڈ موڈ کے ذریعے اپنا تحقیقی مقالہ پیش
شہاب


علی گڑھ، 22 جون(ہ س)۔

ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اطلاقی کیمیا کے پروفیسر شہاب الدین نے تھائی لینڈ کے شہر کرابی میں منعقدہ باوقار سی آئی پی اے سی سمپوزیم میں ہائبرڈ موڈ کے ذریعے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ ان کے مقالے کا عنوان ‘‘نیوکلیئر میگنیٹک ریزونینس اسپیکٹروسکوپی: پروٹون میگنیٹک ریزونینس نظریہ اور ساختی تشریح پر خصوصی توجہ’’ تھا، جس میں این ایم آر اسپیکٹرواسکوپی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ایک مؤثر اور غیر تخریبی تجزیاتی تکنیک کے طور پر اجاگر کیا گیا، جو سالماتی ساخت کی انتہائی درست انداز میں شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تحقیق کا مرکز ڈیلٹامیترین تھا، جو زراعت اور صحتِ عامہ میں وسیع پیمانے پراستعمال ہونے والی ایک اہم مصنوعی حشرہ کش دوا ہے۔ پروفیسر شہاب الدین نے واضح کیا کہ پروٹون میگنیٹک ریزونینس اسپیکٹروسکوپی ڈیلٹامیترین کو اس کے سات ساختی طورپرمشابہ آئسومرزاوردیگر ناخالص اجزاء سے مؤثر انداز میں الگ شناخت کر سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے پروٹون کیمیائی شفٹس اور کپلنگ کانسٹنٹس کا تجزیہ کیا گیا۔ مطالعے سے ثابت ہوا کہ یہ تکنیک پائریتھرائڈ مرکبات کی تیاری کے دوران پیدا ہونے والے پیچیدہ سالماتی امتزاج کی درست اور فوری شناخت کے لیے ایک واضح اور قابلِ اعتماد سالماتی نشان فراہم کرتی ہے۔ اس پیشکش کو محققین اور ماہرین کی جانب سے خاصی پذیرائی حاصل ہوئی، جس سے تجزیاتی کیمیا اور حشرہ کش ادویات سے متعلق تحقیق کے عصری چیلنجوں کے حل میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی سائنسی خدمات کی اہمیت اجاگر ہوئی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande