نیپال کا عوامی قرض جی ڈی پی کے تقریباً 45 فیصد تک، 3 کھرب روپے کے قریب پہنچ گیا
کٹھمنڈو، 22 جون (ہ س): رواں مالی سال 26-2025 کے جون کے وسط تک نیپال کا مجموعی عوامی قرض بڑھ کر تقریباً 3 کھرب روپے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ 15 جون تک نیپال کا کل عوامی قرض 2.961 کھرب روپے رہا، جو مالی سال کے آغاز کے مقابلے میں 287.14 ارب روپے زیادہ ہے۔
نیپال کا عوامی قرض جی ڈی پی کے تقریباً 45 فیصد تک، 3 کھرب روپے کے قریب پہنچ گیا


کٹھمنڈو، 22 جون (ہ س): رواں مالی سال 26-2025 کے جون کے وسط تک نیپال کا مجموعی عوامی قرض بڑھ کر تقریباً 3 کھرب روپے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ 15 جون تک نیپال کا کل عوامی قرض 2.961 کھرب روپے رہا، جو مالی سال کے آغاز کے مقابلے میں 287.14 ارب روپے زیادہ ہے۔

نیپال کے عوامی قرض انتظامی دفتر کی تازہ رپورٹ کے مطابق وزیرِاعظم بالیندر شاہ کی قیادت میں حکومت بننے کے بعد اس مجموعی اضافے میں سے تقریباً 117.25 ارب روپے گزشتہ تین ماہ کے دوران شامل ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نیپال کا کل عوامی قرض اب ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 44.87 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ کل قرض میں بیرونی قرض کا حصہ 53.49 فیصد ہے، جو 1.58 کھرب روپے کے برابر ہے۔ جبکہ اندرونی قرض 46.51 فیصد یعنی 1.37 کھرب روپے ہے۔

حکومت نے رواں مالی سال میں 595.66 ارب روپے قرض حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن جون کے اختتام تک صرف 418.12 ارب روپے یعنی ہدف کا 70.20 فیصد ہی حاصل کیا جا سکا۔ اندرونی قرض کے ہدف کا 93.55 فیصد حاصل کر لیا گیا، جبکہ بیرونی قرض کے حصول میں پیش رفت کافی کمزور رہی اور صرف 34.01 فیصد ہدف پورا ہو سکا۔ جائزہ مدت کے دوران حاصل کیے گئے مجموعی قرض میں 81 فیصد حصہ اندرونی قرض کا رہا، جبکہ بیرونی قرض کی حصہ داری صرف 19 فیصد رہی۔

عوامی قرض انتظامی دفتر کے مطابق زرِ مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ نے نیپال کے بیرونی قرض کے بوجھ میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیپالی کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث ہی جیٹھ کے اختتام تک ملک کے قرض میں 153.47 ارب روپے کا اضافی اضافہ ہوا۔ یہ اثر جائزہ مدت میں عوامی قرض میں ہونے والے مجموعی اضافے کے 53.45 فیصد کے برابر ہے۔ عوامی قرض بڑھنے کے ساتھ ساتھ قرض کی ادائیگی (ڈیبٹ سروسنگ) کے اخراجات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں حکومت نے اصل رقم اور سود کی ادائیگی پر مجموعی طور پر 351.74 ارب روپے خرچ کیے۔ اس میں 229.60 ارب روپے اندرونی قرض کی اصل رقم کی ادائیگی پر خرچ ہوئے، جبکہ اندرونی قرض کے سود کی ادائیگی پر 55.61 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ اسی مدت کے دوران حکومت نے بیرونی قرض کی اصل رقم کی ادائیگی پر 54.84 ارب روپے اور سود کی ادائیگی پر 11.67 ارب روپے خرچ کیے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ نیپال پر عوامی مالیاتی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایک طرف بیرونی قرض حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور دوسری طرف قرض کی ادائیگی کا بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande