بیسٹ ملازمین کی ہڑتال ختم، عبوری مالی راحت، گریجویٹی ادائیگی اور نئی بسوں کی خریداری سمیت اہم فیصلے
ممبئی، 22 جون (ہ س)۔ ممبئی کی عوامی نقل و حمل کے نظام میں ممکنہ تعطل کا خطرہ ٹل گیا ہے، کیونکہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد (بی ای ایس ٹی ) بیسٹ ملازمین کی ایکشن کمیٹی نے اپنی مجوزہ ہڑتال واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔
Maha-Transport-Best-Strike


ممبئی، 22 جون (ہ س)۔ ممبئی کی عوامی نقل و حمل کے نظام میں ممکنہ تعطل کا خطرہ ٹل گیا ہے، کیونکہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد (بی ای ایس ٹی ) بیسٹ ملازمین کی ایکشن کمیٹی نے اپنی مجوزہ ہڑتال واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے سے روزانہ بیسٹ بسوں کے ذریعے سفر کرنے والے لاکھوں شہریوں کو بڑی راحت ملی ہے۔بیسٹ ملازمین کے مختلف مطالبات اور ادارے کے مستقبل سے متعلق امور پر غور کے لیے سہیادری گیسٹ ہاؤس میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا، جس کی صدارت نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کی۔ اجلاس میں ریاستی حکومت، بیسٹ انتظامیہ اور ملازمین کے نمائندوں نے شرکت کی اور مختلف مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ مذاکرات کے دوران کئی اہم فیصلوں پر اتفاق ہوا، جن میں سب سے نمایاں ملازمین کی زیر التوا گریجویٹی کی ادائیگی ہے۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ تمام بقایا گریجویٹی رقم موجودہ مالی سال کے دوران مرحلہ وار ادا کی جائے گی تاکہ ملازمین کو درپیش مالی مشکلات کم کی جا سکیں۔اجلاس میں نئے تنخواہ معاہدے کے نفاذ تک عبوری مالی راحت فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس کے تحت بیسٹ کے مستقل ملازمین کو ہر ماہ تین ہزار روپے اضافی دیے جائیں گے، جبکہ ویٹنگ لسٹ میں شامل ملازمین کو دو ہزار روپے ماہانہ عبوری اضافہ ملے گا۔ اجلاس میں ٹرانسپورٹ وزیر پرتاپ سرنائک، رکن اسمبلی سچن اہیر، رکن اسمبلی مرجی پٹیل، نائب وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری اسیم گپتا، پرنسپل سکریٹری نوین سونا، ممبئی میونسپل کمشنر اشونی بھڈے، بیسٹ کی جنرل منیجر سونیا سیٹھی اور ملازمین کی ایکشن کمیٹی کے نمائندے موجود تھے۔ایکناتھ شندے نے اجلاس کے دوران واضح کیا کہ بیسٹ ممبئی کی لائف لائن ہے اور اس کی مضبوطی ریاستی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ ہڑتال کے خاتمے کے بعد بس سروس کو فوری طور پر معمول پر لایا جائے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ادارے کی طویل مدتی ترقی کے لیے بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں آئندہ تین برسوں کے دوران پانچ ہزار نئی بسیں بیسٹ کے اپنے بیڑے میں شامل کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے مالی وسائل مرحلہ وار فراہم کیے جائیں گے تاکہ عوامی ٹرانسپورٹ نظام کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔مذاکرات کے دوران بیسٹ انتظامیہ کی جانب سے تیار کردہ اصلاحاتی منصوبہ، جسے ’’کایاپلٹ‘‘ تجویز کا نام دیا گیا ہے، پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ نائب وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ اس تجویز کو جلد از جلد ریاستی حکومت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور کابینہ سے منظوری دلانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ اجلاس کے بعد منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں بیسٹ ملازمین کی ایکشن کمیٹی نے باضابطہ طور پر ہڑتال واپس لینے کا اعلان کیا۔ کمیٹی کے نمائندوں نے مذاکراتی عمل اور حکومت کی یقین دہانیوں کو اس فیصلے کی بنیادی وجہ قرار دیا۔سیاسی اور انتظامی حلقوں کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف فوری بحران کو ٹالنے میں کامیاب رہا بلکہ بیسٹ ادارے کی مالی اور انتظامی بحالی کے لیے بھی ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ ہڑتال ختم ہونے کے بعد بیسٹ انتظامیہ نے بس خدمات کو معمول کے مطابق بحال کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے چند گھنٹوں میں پورا ٹرانسپورٹ نظام مکمل طور پر معمول پر آ جائے گا اور روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں شہریوں کو اس کا براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande