چار روز سے لاپتہ بچے کی لاش ڈنڈوری کے جنگل سے تین ٹکڑوں میں ملی
ڈنڈوری، 22 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ڈنڈوری ضلع میں پانچ سالہ بچے کی موت سے علاقے میں کہرام مچ گیا ہے۔ چار دن سے لاپتہ بچے کی لاش پیر کو گاو¿ں کے قریب جنگل میں تین ٹکڑوں میں برآمد ہوئی۔ لاش مسخ شدہ حالت میں ملنے کے بعد پولیس نے تفتیش تیز کردی ہ
چار روز سے لاپتہ بچے کی لاش ڈنڈوری کے جنگل سے تین ٹکڑوں میں ملی


ڈنڈوری، 22 جون (ہ س)۔

مدھیہ پردیش کے ڈنڈوری ضلع میں پانچ سالہ بچے کی موت سے علاقے میں کہرام مچ گیا ہے۔ چار دن سے لاپتہ بچے کی لاش پیر کو گاو¿ں کے قریب جنگل میں تین ٹکڑوں میں برآمد ہوئی۔ لاش مسخ شدہ حالت میں ملنے کے بعد پولیس نے تفتیش تیز کردی ہے۔

معلومات کے مطابق، کرنجیا تھانہ علاقے کے تریرا گاو¿ں کا رہنے والا اختیار خان 17 جون کو جنگل میں لکڑیاں لینے گیا تھا۔ اسی دوران اس کا پانچ سالہ بیٹا عمران صبح گھر سے نکلا اور باپ کے پیچھے جنگل میں چلا گیا۔ خاندان نے فرض کیا کہ بچہ اپنے والد کے پاس ہے، اس لیے ابتدائی طور پر کسی نے اس کی غیر موجودگی کو محسوس نہیں کیا۔

والد کی واپسی پر معلومات سامنے آئیں

جب اختیار خان لکڑیاں لے کر گھر واپس آئے اور بیٹے کے بارے میں دریافت کیا تو گھر والوں کو معلوم ہوا کہ عمران ان کے ساتھ نہیں ہے۔ اس کے بعد اہل خانہ نے اسے محلے اور رشتہ داروں کے گھروں میں تلاش کرنا شروع کیا لیکن کوئی سراغ نہیں ملا۔ بعد میں اہل خانہ نے کرنجیا پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔ شکایت ملنے پر پولیس نے بچے کی تلاش کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی اور جنگل اور آس پاس کے گاوں میں تلاشی مہم شروع کی۔ بچے کے بارے میں معلومات سوشل میڈیا پر بھی گردش کر رہی تھیں۔

پیر کو بچے کی لاش گاوں سے ڈیڑھ کلومیٹر دور جنگلاتی علاقے میں برآمد ہوئی۔ اطلاع ملنے کے بعد پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کی کارروائی شروع کردی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر موت کی وجہ کا تعین کرنے کے لیے ڈاکٹروں کی ٹیم کو بھی جائے وقوعہ پر بلایا گیا ہے۔

فی الحال پولیس تمام ممکنہ پہلوو¿ں سے تفتیش کر رہی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فرانزک جانچ کے بعد ہی موت کی وجہ واضح ہوسکے گی۔ اس واقعے کے بعد پورے گاو¿ں میں سوگ کی کیفیت ہے، اور خاندان گہرے صدمے میں ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande