
یروشلم، 22 جون (ہ س) ۔اسرائیل میں رائے عامہ کے ایک نئے سروے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شہریوں کی اکثریت وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے ایران جنگ کے انتظام سے مطمئن نہیں ہے۔ سروے کے مطابق، 56.4 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ نیتن یاہو ایران کے خلاف جنگ کو سنبھالنے میں ’’ناکام‘‘ یا ’’خراب‘‘ثاب ہوئے ہیں، جبکہ صرف 26.5 فیصد نے ان کی کارکردگی کو مثبت قرار دیا۔
ترکیہ کی خبر رساں ایجنسی انادولو ایجنسی کے مطابق یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کی جانب سے 17 سے 20 جون کے درمیان 3644 افراد کے درمیان کیے گئے سروے اور ٹائمز آف اسرائیل اخبار میں شائع ہونے والے سروے میں 56.4 فیصد لوگوں نے جنگ کے دوران نیتن یاہو کے کام کو’’ناکام‘‘ یا ’’خراب‘‘ قرار دیا، جبکہ 26.5 فیصد نے اسے مثبت قرار دیا۔
سروے میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ 72.5 فیصد اسرائیلی شہری نیتن یاہو کے اس دعوے پر یقین نہیں کرتے کہ اسرائیل نے جنگ میں ’’بڑی کامیابی‘‘ حاصل کی ہے اور ملک کو درپیش ’’وجود کے خطرے‘‘کو ختم کر دیا ہے۔
نتائج کے مطابق، 92.1 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ ایران تنازع میں فائدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، جب کہ 82.9 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ جنگ نے اسرائیل کی طویل مدتی سلامتی کو کمزور کر دیا ہے۔
سروے میں شامل 87.8 فیصد نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسرائیل نے اپنے بیان کردہ فوجی اور اسٹریٹجک اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں کیے ہیں۔ وزیر اعظم کے طور پر نیتن یاہو کی مقبولیت میں بھی کمی آئی ہے۔ مارچ میں ان کی حمایت 40.5 فیصد سے کم ہو کر جون میں 29.4 فیصد رہ گئی۔
دریں اثنا، سیکورٹی کے مسائل پر رائے عامہ منقسم نظر آئی۔ سروے کے مطابق 48.2 فیصد نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف ایک بڑا فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے حق میں جبکہ 20.9 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔
اس سے قبل اتوار کو امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک ریزورٹ میں مذاکرات شروع ہوئے۔ یہ مذاکرات اسلام آباد میں مفاہمتنامے کے تحت ہو رہے ہیں جس کا مقصد ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
اس معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر دشمنی ختم کرنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران پر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے جیسی دفعات شامل ہیں۔
ساتھ ہی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر اس طرح کے سروے میں نظر آنے والی ناراضگی اسی طرح جاری رہی تو مستقبل میں نیتن یاہو کی سیاسی پوزیشن اور ان کی حکومت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد