
تہران، 22 جون (ہ س)۔ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قاآنی نے جنوبی لبنان میں تعینات اسرائیلی فوج کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں، یا تو وہ رضاکارانہ طور پر پیچھے ہٹ جائے یا اسے زبردستی اور ذلت آمیز طریقے سے نکال دیا جائےگا۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پریس ٹی وی کے مطابق اتوار کے روز سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں اسماعیل قاآنی نے اسرائیلی فوجیوں کو عبرانی زبان میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ جنوبی لبنان سے انخلاء نہیں کرتے تو پھر 2000 میں جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جب اسرائیل کو طویل قبضے کے بعد لبنان سے پیچھے ہٹاپڑا تھا۔
قاآنی نے کہا،’’اگر آپ اپنے قدموں سے جنوبی لبنان کو نہیں چھوڑتے ہیں، تو آپ کو شکست اور ذلت کے ساتھ باہر نکال دیا جائے گا۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے‘‘۔
آئی آر جی سی کے کمانڈر نے حالیہ جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گذشتہ چند دنوں میں اسرائیلی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختصر عرصے میں بڑی تعداد میں اسرائیلی فوجی مارے گئے ہیں۔
یہ بیان لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر جاری کشیدگی کے درمیان سامنے آیا ہے۔ ایران نے اسرائیل پر جنگ بندی کے معاہدوں کی خلاف ورزی اور لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا الزام لگایا ہے۔
ادھر حزب اللہ نے بھی اسرائیلی حملوں کے جواب میں اپنی عسکری سرگرمیاں تیز کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے حالیہ دنوں میں متعدد اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا ہے۔دریں اثنا، ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ سفارتی معاہدے کے بعد لبنان میں تنازعہ کم ہونے کی امید تھی۔ تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو علاقائی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
دریں اثنا، اسرائیلی قیادت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں اپنی سیکیورٹی پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کے حق میں نہیں ہے۔ اسرائیلی حکام کا موقف ہے کہ سرحدی علاقے میں فوجی کارروائیاں ان کے سلامتی کے مفادات سے منسلک ہیں۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ دونوں طرف سے سخت بیان بازی سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جب کہ عالمی برادری تنازع پر قابو پانے اور دیرپا جنگ بندی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد