
اکشے کمار کی فلم ’ویلکم ٹو دی جنگل‘ ریلیز سے قبل ہی سنسر بورڈ کی سختی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بن گئی۔ یہ فلم 26 جون کو سینما گھروں کی زینت بنے گی لیکن اس سے قبل سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی) نے فلم کے کئی سین اور ڈائیلاگ پر اعتراض کرتے ہوئے کل 14 تبدیلیوں کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ پروڈیوسرز کی جانب سے فلم کو بورڈ کے پاس سرٹیفیکیشن کے لیے پیش کرنے کے بعد کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق سنسر بورڈ نے کچھ ڈائیلاگ میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔فلم میں موجود ’کالا پیدا ہوا ہے، کوئلہ ہے‘ کو بدل کر ’سادہ پیدا ہوا ہے، نمونہ ہوا ہے‘ کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ’اسکروڈ‘ لفظ کو مناسب لفظ سے بدلنے، ’اظہرالدین کی جگہ ’علاوالدین‘ اور گورکھا رجیمنٹ کو ’تم آرمی سے ہو؟‘جیسے ڈائیلاگوں سے تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔وہیں کچھ مناظر کو مکمل طور پر ہٹانے اور کچھ قابل اعتراض مکالموں میں ترمیم کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔
سنسر بورڈ نے ایک گانے میں بکنی اور کلوز اپ شاٹس میں بھی تبدیلی کا حکم دیا ہے۔ بورڈ نے دیشا پٹانی اور جیکولین فرنانڈیزپر فلمائے گئے کچھ گلیمرس مناظر کو بھی کاٹنے کا حکم دیا ہے۔ گندے اشاروں والے کچھ مناظر کو ہٹاکر ان کی جگہ دیگر مناظر جوڑے گئے ہیں۔ ان سبھی تبدیلیوں کے بعد فلم کو U/A 16+ سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے۔فلم کا کل دورانیہ 2 گھنٹے 44 منٹ 50 سیکنڈ لگایا گیا ہے۔ اس ملٹی اسٹارر کامیڈی انٹرٹینر میں اکشے کمار کے ساتھ کئی مشہور اداکار شامل ہیں۔ شائقین اب فلم کی ایڈوانس بکنگ اور باکس آفس پرفارمنس کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں، جو 23 جون کو کھل رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan