
لندن، 22 جون (ہ س)۔ برطانوی وزیر اعظم کیئرا سٹارمر کے استعفیٰ کے حوالے سے قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسٹارمر لیبر پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی اور اپنی قیادت کے بارے میں سوالات کے درمیان اپنے سیاسی مستقبل پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم، حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم اس وقت قومی حکمرانی اور پالیسی کے معاملات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
مختلف برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم اسٹارمر کی قیادت پر بحران اس وقت مزید گہرا ہو گیا، جب اینڈی برنہم پارلیمانی ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد پارلیمنٹ میں داخل ہوئے ۔ برنہم کو طویل عرصے سے لیبر پارٹی کے اندر ایک بااثر شخصیت سمجھا جاتا ہے اور انہیں اسٹارمر کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق 100 سے زائد لیبرپارٹی کے ایم پی نے عوامی طور پر اسٹارمر سے استعفیٰ دینے یا ان کے استعفیٰ کی آخری تاریخ کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کابینہ کے وزراء، پارٹی مشیروں اور ٹریڈ یونین لیڈروں کے ساتھ بات چیت کے بعد اسٹارمر نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان کے لیے عہدے پر رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
تاہم جمعہ کو ا سٹارمر نے واضح کیا کہ اگر قیادت کے حوالے سے کو ئی چیلنج سامنے آتا ہے تو وہ اس کا سامنا کریں گے۔ انہوں نے پارٹی قائدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اندرونی تنازعات سے گریز کریں اور متحد رہیں۔
2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیابی دلا نے والے اسٹارمر حالیہ مہینوں میں تنازعات، پالیسی میں تبدیلیوں اور بڑھتے ہوئے معاشی چیلنجوں کی وجہ سے تنقید کے مرکز میں رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، عوامی خدمات کی حالت اور غیر قانونی امیگریشن جیسے مسائل پر حکومت کی کارکردگی سے عوام میں عدم اطمینان بڑھ گیا ہے۔
دریں اثنا، برنہم نے اپنی انتخابی کامیابی کے بعد ملک کے لیے نئی سمت کا وعدہ کیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے ابھی تک باضابطہ طور پر قیادت کے چیلنج کا اعلان نہیں کیا ہے، لیکن ان کے حامی اسٹارمر پر زور دے رہے ہیں کہ وہ رضاکارانہ طور پر عہدہ چھوڑ دیں۔سابق وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ قیادت کی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر اسٹارمر عہدے سے دستبردار ہو جاتے ہیں یا انہیں ہٹا دیا جاتا ہے تو برطانیہ کوگزشتہ ایک دہائی میں ساتویں وزیر اعظم مل سکتا ہے۔ اس سے ملکی سیاست میں عدم استحکام اور قیادت کے بحران کے بارے میں نئی بحث چھڑ سکتی ہے۔
دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ اسٹارمر وزیر اعظم کے عہدے سے دستبردار ہو سکتے ہیں۔ تاہم برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور ٹرمپ کے درمیان اس معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ اب پوری قوم دیکھ رہی ہے کہ آیا اسٹارمر عہدے پر برقرار ر ہیں گے یا لیبر پارٹی قیادت کی تبدیلی کے لیے تیار ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد