برطانوی وزیرِاعظم اسٹارمر کا مستعفی ہونےکا اعلان
لندن،22جون(ہ س)۔برطانوی وزیرِاعظم کیر اسٹارمر نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت کی سربراہی سے مستعفی ہو رہے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اقتدار کی منتقلی کو منظم اور پرامن بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔10 ڈاوننگ اسٹریٹ کے باہر
وزیراعظم


لندن،22جون(ہ س)۔برطانوی وزیرِاعظم کیر اسٹارمر نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت کی سربراہی سے مستعفی ہو رہے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اقتدار کی منتقلی کو منظم اور پرامن بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔10 ڈاوننگ اسٹریٹ کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیبر پارٹی ان کی قیادت سے پہلے ''سیاسی طور پر کمزور ''حالت میں تھی، ان کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں برطانیہ کی معیشت میں بہتری آئی ہے۔اسٹارمر نے کہا کہ وہ اس وقت تک وزیرِاعظم کے طور پر فرائض انجام دیتے رہیں گے جب تک لیبر پارٹی نیا رہنما منتخب نہیں کر لیتی۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس فیصلے سے بادشاہ چارلس کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ پارٹی سے درخواست کریں گے کہ قیادت کے انتخاب کے لیے باقاعدہ شیڈول طے کیا جائے، اور نامزدگیوں کا عمل 9 جولائی کو شروع کیا جائے گا۔یہ پیش رفت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اقتدار کی منظم منتقلی ان کے سیاسی حریف اینڈی برنہم کے حق میں جا سکتی ہے، جس سے ممکنہ طور پر برطانیہ کو ایک دہائی کے اندر ساتویں رہنما کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انتخابات میں شاندار فتح حاصل کرنے کے محض دو سال سے بھی کم عرصے بعد جس سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ برطانیہ کی سیاسی بے یقینی کا خاتمہ ہو جائے گا، ایک ذریعے کے مطابق اسٹارمر نے ہفتے کے آغاز میں اس بات پر غور کیا کہ آیا وہ مستعفی ہوں یا قیادت کی دوڑ میں حصہ لیں۔یہ خطرہ مہینوں سے بڑھ رہا تھا، جمعہ کے روز اس وقت اچانک شدت اختیار کر گیا جب اینڈی برنہم، گریٹر مانچسٹر کے میئر نے ایک ضمنی پارلیمانی انتخاب میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کرتے ہوئے دوبارہ ویسٹ منسٹر میں نشست حاصل کر لی۔انہوں نے ریفارم پارٹی کے امیدوار کو شکست دی، جس کی قیادت نائجل فراج کر رہے ہیں اور جو ایک سال سے زائد عرصے تک قومی رائے عامہ کے سرویز میں سب سے آگے رہی۔اس کامیابی نے لیبر پارٹی کے کئی اراکینِ پارلیمنٹ کو یہ امید دی ہے کہ برنہم جو ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں اور موثر رابطہ کاری کی صلاحیت کے لیے جانے جاتے ہیں، پارٹی کی سمت کو بدل سکتے ہیں، جو اسٹارمر کی قیادت میں اپنی مقبولیت کھو چکی ہے اور اس کی عوامی حمایت تاریخی کم ترین سطحوں تک گر گئی ہے۔تاہم قیادت میں ممکنہ تبدیلی اپنے ساتھ خطرات بھی رکھتی ہے۔برنہم نے اگرچہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک میں بنیادی تبدیلی اور زندگی کے اخراجات میں کمی ضروری ہے، لیکن انہوں نے ابھی تک خارجہ پالیسی، معیشت اور دفاع جیسے اہم شعبوں پر اپنا واضح موقف سامنے نہیں رکھا۔اسی طرح اسٹارمر کی طرح برنہم بھی محدود پالیسی گنجائش کا سامنا کر سکتے ہیں، کیونکہ ایک طرف بانڈ مارکیٹس کے سرمایہ کار کسی بھی قسم کے اضافی قرضوں یا شرح سود میں اضافے کے سخت مخالف ہیں اور دوسری طرف ووٹرز کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی اس بات پر ناراض ہے کہ ملک درست سمت میں آگے نہیں بڑھ رہا۔برطانیہ پہلے ہی جی-7 ممالک میں سب سے زیادہ قرض لینے کی لاگت کا سامنا کر رہا ہے، جس کی بڑی وجہ بڑھتا ہوا قرض، سود کی ادائیگیوں میں اضافہ، کئی برسوں کی کمزور اقتصادی نمو، اخراجات میں کمی لانے میں مشکلات اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے۔اس صورتحال میں اسٹارمر ایک اور ایسے رہنما بن جائیں گے جو استعفیٰ دے رہے ہیں۔اگر برنہم ان کی جگہ لیتے ہیں تو وہ بریگزٹ کے لیے ہونے والے ووٹ کے بعد گزشتہ دس سالوں میں برطانیہ کے ساتویں وزیرِاعظم بن جائیں گے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande