
کشن گنج، 22 جون (ہ س)۔ نگر پنچایت پوا کھالی کے وارڈ نمبر 3 واقع سمل باڑی رہائشی ایک معصوم بچے کی لاش پیر کے روز بوڑھی کنکئی ندی سے برآمد کیا گیا۔ متوفی کی شناخت صمدانی ولد سمیر الدین کے طور پر ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق صمدانی اتوار کی دوپہر سے لاپتہ تھا۔ اہل خانہ اور مقامی لوگوں نے اس کی بہت تلاش کی لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ تلاشی کے دوران بچے کے کپڑے ندی کے کنارے سے ملے جس سے خدشہ ہوا کہ وہ ڈوب گیا ہے۔ اس کے بعد پواکھالی تھانہ اور ضلع مجسٹریٹ کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی۔اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامی اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیم کو بلایا گیا۔پیر کے روز ٹیم نے بوڑھی کنکئی ندی میں تلاشی مہم شروع کی۔ کافی کوشش کے بعد ٹیم نے بچے کی لاش کو ندی سے نکال لیا۔
لاش کی خبر سے اہل خانہ اور آس پاس کے لوگوں کی بڑی تعداد بھی جائے وقوعہ پر جمع ہو گئی۔ معصوم بچے کی موت سے پورے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے بوڑھی کنکئی ندی میں مبینہ طور پر غیر قانونی کان کنی کو حادثے کی وجہ بتاتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ندی میں غیر قانونی کان کنی سے کئی مقامات پر گہرے گڑھے بن گئے ہیں جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ حالانکہ انتظامیہ نے ابھی تک سرکاری طور پر اس واقعے اور مبینہ غیر قانونی کان کنی کے درمیان کسی تعلق کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ادھر پواکھالی تھانہ انچارج شنکھ راج کرنا نے بتایا کہ متوفی بچے کے اہل خانہ نے پوسٹ مارٹم نہ کرانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے ایک تحریری درخواست جمع کرائی ہے۔ پولیس ضروری قانونی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan