
علی گڑھ، 22 جون(ہ س)۔
علی گڑھ سے غیر مجاز طور پر چلنے والی ڈگّے مار بسوں کی من مانی ایک بار پھر سامنے آئی ہے۔ غازی آباد سے ایٹا اور ہردوئی جانے والے مسافروں نے الزام لگایا ہے کہ بس عملے نے نہ صرف ان کے ساتھ بدتمیزی کی بلکہ احتجاج کرنے پر مارپیٹ کی دھمکیاں بھی دیں۔
متاثرہ مسافروں کے مطابق ایک نجی بس نے غازی آباد سے سواریاں بٹھائیں، لیکن راستے میں انہیں دوسری بس میں منتقل کر دیا گیا۔ بعد ازاں دوسری بس کے عملے نے تقریباً 12 مسافروں کو لودھا علاقے کے کھیریشور چوراہے پر اتار دیا۔ جب مسافروں نے اس پر اعتراض کیا تو ان کے ساتھ تلخ کلامی کی گئی اور دھمکیاں دی گئیں۔ مسافر وریندر کا کہنا ہے کہ اس سے دادری سے ہردوئی کے سفر کے لیے 492 روپے وصول کیے گئے تھے، جبکہ شیو شنکر اور پریم پرکاش سے دادری سے سفر کے لیے 560 روپے لیے گئے۔ مسافروں کا الزام ہے کہ پولیس کنٹرول روم 112 پر شکایت کے باوجود انہیں کوئی خاطر خواہ مدد نہیں مل سکی۔
دوسری جانب آر ٹی او دنیش کمار نے کہا کہ انہیں اس معاملے میں کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی ہے، تاہم واقعہ کی جانچ کر کے ضروری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ