وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے دورۂ علی گڑھ کے دوران طلبہ یونین انتخابات کی بحالی کے مطالبات پر مبنی پوسٹرز نے سیاسی ماحول گرم کر دیا
علی گڑھ, 22 جون (ہ س)۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے دورۂ علی گڑھ سے قبل شہر کے مختلف علاقوں میں طلبہ یونین انتخابات کی بحالی اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات پر مشتمل پوسٹرز لگائے جانے کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ ان پوسٹ
یوگی پوستر


علی گڑھ, 22 جون (ہ س)۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے دورۂ علی گڑھ سے قبل شہر کے مختلف علاقوں میں طلبہ یونین انتخابات کی بحالی اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات پر مشتمل پوسٹرز لگائے جانے کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ ان پوسٹروں میں طلبہ کو جمہوری حقوق فراہم کرنے، طلبہ یونین انتخابات دوبارہ شروع کرنے اور نجی اسکولوں میں این سی ای آر ٹی نصاب نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ پوسٹر شہر کے کئی اہم مقامات پر دیکھے گئے، جن میں نمائش میدان، مختلف مرکزی شاہراہیں، راجا مہندر پرتاپ سنگھ ریاستی یونیورسٹی جانے والا راستہ اور ضلع مجسٹریٹ دفتر کے اطراف کے علاقے شامل ہیں۔ پوسٹروں کی موجودگی نے سیاسی حلقوں اور طلبہ تنظیموں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

پوسٹروں کے منظر عام پر آنے کے بعد علی گڑھ کے رکن پارلیمان ستیش گوتم کا ایک پرانا بیان بھی دوبارہ موضوعِ گفتگو بن گیا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی اجازت کے بغیر شہر میں کوئی بڑی سیاسی سرگرمی ممکن نہیں۔

ملائم سنگھ یوتھ بریگیڈ کے ریاستی سکریٹری ایڈووکیٹ عمران پٹھان نے کہا کہ یہ پوسٹر نوجوانوں اور طلبہ کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں، جو طویل عرصے سے طلبہ یونین انتخابات کی بحالی اور تعلیمی نظام میں بہتری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر حکومت نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے طلبہ یونین انتخابات بحال کرکے طلبہ کو ان کا جمہوری حق واپس دینا چاہیے۔

سماجوادی چھاتر سبھا کے شہر صدر محسن میواتی نے کہا کہ طلبہ یونین انتخابات جمہوری قیادت کی تربیت کا بنیادی ذریعہ ہوتے ہیں، لیکن کئی برسوں سے ان انتخابات کا انعقاد نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت طلبہ کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے اور نوجوانوں کو جمہوری عمل میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کرے۔

پوسٹروں میں طلبہ یونین انتخابات کی بحالی کے علاوہ نجی تعلیمی اداروں میں این سی ای آر ٹی نصاب نافذ کرنے، تعلیم کے بڑھتے ہوئے تجارتی رجحان پر روک لگانے اور نوجوانوں کی سیاسی و سماجی شمولیت کو یقینی بنانے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔

وزیر اعلیٰ کے دورے سے قبل سامنے آنے والی اس مہم نے شہر کی سیاسی فضا کو مزید سرگرم بنا دیا ہے۔ اب عوامی و سیاسی حلقوں کی نظریں وزیر اعلیٰ کے دورے اور ان کی جانب سے ممکنہ اعلانات پر مرکوز ہیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande