
برن،21جون(ہ س)۔امریکہ اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا نیا دور آج اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں شروع ہو رہا ہے۔ یہ مذاکرات دونوں فریقین کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت پر مبنی ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی مذاکرات کاروں کی آمد کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی مذاکرات کے مقام بورگن اسٹاک پہنچ چکے ہیں، جبکہ پاکستانی میڈیا کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر بھی اتوار کی صبح سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی حمایت جاری رکھے گی، اور وزیر اعظم امریکہ، ایران، قطر اور سوئٹزرلینڈ کے وفود کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔روانگی سے قبل جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم جوہری معاملے اور لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے پیش رفت حاصل کریں گے اور یہ دو اہم ترین نکات ہیں جن پر ہماری توجہ مرکوز رہے گی۔یاد رہے کہ مذاکرات جمعہ کو شروع ہونا تھے لیکن اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حملوں میں شدت اور حزب اللہ کے ہاتھوں چار فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد انہیں آخری لمحات میں ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اس وقت واشنگٹن نے وہاں جنگ بندی کی تجدید پر اتفاق کر لیا تھا جو ایران کے ساتھ اس کے ابتدائی معاہدے کی ایک شرط ہے، تاہم ہفتے کے روز اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں ہوئیں اور دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ایرانی مسلح افواج کے مرکزی آپریشن روم، خاتم الانبیاءہیڈکوارٹر نے ایک بیان میں آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا، جس کی وجہ امریکہ کی طرف سے وعدہ خلافی اور جنوبی لبنان میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی قرار دی گئی۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کی رات مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو کھولنا اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرہ ختم کرنا شامل تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے محفوظ گزرگاہ بدستور دستیاب ہے اور امریکی افواج چوکس ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بعد ازاں خبردار کیا کہ اگر مذاکرات کار معاہدہ کرنے میں ناکام رہے تو واشنگٹن آبنائے ہرمز میں اپنے خصوصی راہداری ٹیکس عائد کر سکتا ہے۔برن کے مطابق سفارت کاروں کے درمیان ابتدائی مذاکرات ہفتے کے روز شروع ہوئے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا اور سوئس وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ ایرانی وفد ہفتے کی رات دیر گئے سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا ہے۔ ایرانی ٹی وی کے مطابق وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی شامل ہیں۔وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ارنا نیوز ایجنسی کے حوالے سے بتایا کہ وفد اس مفاہمت کے تحت دوسرے فریق کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کرے گا۔پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ بورگن اسٹاک میں تکنیکی سطح پر بات چیت ہوگی جس میں پاکستانی اور قطری ثالث امریکی اور ایرانی وفود کے ساتھ بحث میں حصہ لیں گے۔ توقع ہے کہ یہ مذاکرات دو ماہ تک جاری رہیں گے اور ابتدائی معاہدے میں حل طلب رہ جانے والے معاملات، خاص طور پر ایرانی جوہری پروگرام پر غور کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan