
شناخت کا بحران پیدا کرنے والوں کو اب عوام دھتکارتی ہے: یوگی آدتیہ ناتھ
ہمیر پور، 21 جون (ہ س)۔
اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ اب اتر پردیش نہیں، بلکہ وہ لوگ شناخت کے محتاج ہیں جنہوں نے یو پی کو بیمارو (پسماندہ) بنایا تھا۔ آج ان سب کے سامنے پہچان کا بحران کھڑا ہو گیا ہے۔ عوام اب انہیں دھتکارتی ہے، بھگاتی ہے اور انہیں اہمیت نہیں دیتی۔ عوام نے کمل کے پھول پر ووٹ دے کر ہمیر پور اور راٹھ میں بی جے پی کو جتایا تو سیکورٹی، ہر گھر نل اور ایکسپریس وے سمیت کئی اسکیمیں اور جدت طرازی ہو رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بندیل کھنڈ کے باشندوں سے اپیل کی کہ مافیا کے سرپرستوں کو دوبارہ آنے نہیں دینا ہے اور انہیں پہچان کے لیے محتاج بنانا ہے۔ ذات پات، خطے اور زبان کے نام پر تقسیم نہیں ہونا ہے بلکہ ترقی، وراثت، عقیدت اور معیشت کے لیے صحت مند مقابلے کو بڑھانا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سوامی برہمانند ڈگری کالج، راٹھ میں 636 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے 75 ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا۔ یہاں ہمیر پور کی ترقی پر مبنی ایک مختصر فلم بھی دکھائی گئی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 9 سال پہلے بندیل کھنڈ کی کنیکٹیویٹی ٹھیک نہیں تھی۔ سڑکیں گڈھوں میں تبدیل ہو چکی تھیں۔ مائیں اور بہنیں مٹی کا گھڑا سر پر رکھ کر پانی ڈھونڈنے میں زندگی گزار دیتی تھیں۔ یمنا اور بیتوا کے سنگم والا ہمیر پور پانی کے لیے اور یہاں کا نوجوان شناخت کے لیے ترستا تھا۔ بالو، کان کنی اور بھو مافیا (زمین مافیا) غریبوں کا استحصال کرتے تھے۔ ملک میں لوگ یو پی والوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 12 سال میں پی ایم مودی کی قیادت میں ہندوستان بدلا ہے۔ آج صبح تقریباً 100 ممالک کے لاکھوں لوگ یوگا سے جڑے تھے۔ اس سے موجودہ و ماضی فخر محسوس کرتے اور مستقبل خوش حال ہوتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے 12ویں یوگا ڈے پر ہندوستان کی پہچان کو پھر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ مودی جی نے کمبھ کو بھی انسانیت کے غیر مادی ثقافتی ورثے کے طور پر پہچان دلائی۔
یوگی نے کہا کہ ذات پات کی سیاست کرنے والوں نے اقتدار میں آنے پر صرف اپنے خاندان کا پیٹ بھرا۔ مودی جی کے لیے 140 کروڑ کا ہندوستان اور ہمارے لیے 25 کروڑ کا صوبہ ہی خاندان ہے۔ ہم نے دکھایا کہ جب عوام کے مفاد کے لیے کام کرنا، اسکیم بنانا اور موثر طریقے سے نافذ کرنے کے مقصد سے کام ہوتا ہے تو نتائج آنے میں دیر نہیں لگتی۔
2017 میں وزیر اعلیٰ بننے کے بعد جب میں بندیل کھنڈ آیا تو لوگوں نے یہاں کی خراب کنیکٹیویٹی سے آگاہ کیا۔ تب میں نے بندیل کھنڈ ایکسپریس وے کی بات کہی تھی، آج یہ پروجیکٹ پورا بھی ہو گیا ہے۔ اب اتر پردیش میں ہی گولا بارود، توپ اور میزائل بن رہے ہیں۔ لکھنو میں بنا برہموس میزائل جب آپریشن سندور میں پاکستان پر داغا گیا تو وہ جان کی بھیک مانگ رہا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’ہر گھر جل‘ کی اسکیم اب بہن بیٹیوں کو راحت دے رہی ہے۔ خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس ’بلینی ملک پروڈیوسر‘، ’ڈرون دیدی‘، ’لکھ پتی دیدی‘ اور ’بی سی سکھی‘ کے طور پر اپنی پہچان بنا رہے ہیں۔ پولیس بھرتی میں اب بندیل کھنڈ، مہوبا، ہمیر پور، للت پور، جالون اور جھانسی کے نوجوان بھی بھرتی ہوتے ہیں۔ پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا کیونکہ اسکیمیں صرف سیفئی کو ذہن میں رکھ کر بنتی تھیں۔ آج پوری ریاست کو دھیان میں رکھ کر آبپاشی، پینے کے پانی اور کنیکٹیویٹی وغیرہ کی اسکیمیں بن رہی ہیں۔ نئے ایئر کرافٹ آنے کے بعد جب چترکوٹ سے ہوائی سروس شروع ہوگی تو بندیل کھنڈ میں بہترین ایئر کنیکٹیویٹی دیکھنے کو ملے گی۔ اب ٹرین کی نئی سہولیات نظر آ رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماری حکومت نے راٹھ کے لیے بس اسٹینڈ منظور کیا تھا۔ محکمۂ ٹرانسپورٹ اسے تیزی سے آگے بڑھائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شاہجہاں پور سے تجویز ملی تو وہاں سوامی شکدیوانند اسٹیٹ یونیورسٹی تعمیر کی گئی۔ بھدوہی سے عمارت اور پراپرٹی کے ساتھ تجویز ملی تو اس سیشن سے کاشی نریش یونیورسٹی کا آغاز ہو گیا، لیکن سوامی برہمانند مہاودیالیہ منیجمنٹ کمیٹی کی تجویز ابھی تک نہیں آئی۔ تجویز دیجیے، ہم یونیورسٹی بنائیں گے۔ اس کے لیے ایکٹ بنانے پڑتے ہیں، عمل میں وقت لگتا ہے۔ جتنا وقت کے مطابق کام ہوگا، حکومت اتنی ہی تیزی سے اسے زمین پر اتارے گی۔ یونیورسٹی بڑے اور وسیع وژن کے ساتھ ہونی چاہیے، جس میں دوسرے اضلاع کے کالج بھی الحاق (افلی ایشن) لے سکیں۔ نوجوانوں کو جدید و تکنیکی تعلیم دے سکیں اور فیوچرسٹک ٹیکنالوجی کو لا کر ڈیفنس مینوفیکچرنگ کوریڈور کے لیے نوجوانوں کے اسکلنگ سینٹر کو بڑھائیں۔ وزیر اعلیٰ نے ہمیر پور میں میڈیکل کالج بنانے پر بھی زور دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تالاب کھدوا کر واٹر ہارویسٹنگ کے بڑے پروگرام چل رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے بندیل کھنڈ اور ہمیر پور کے لوگوں سے اپیل کی کہ ’ہر گھر جل‘ اسکیم وسیع تبدیلی کا سبب بنے گی۔ کبرئی، رتولی بندھ، باونی بندھ، کچنودا بندھ، چلی-مجگانوا اسپرینکلر آبپاشی اور کین-بیتوا جیسے پروجیکٹوں کو مکمل کیا جا رہا ہے۔ آنے والے وقت میں آبپاشی اور پینے کے پانی کے لیے پانی کا کوئی بحران نہیں ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے پانی کی ایک ایک بوند بچانے، صفائی ستھرائی اور شجرکاری پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک بارش ہو جانی چاہیے تھی، لیکن مونسون نہیں آیا۔ ال نینو کی وجہ سے اگلے تین سال تک بے وقت بارش اور کم بارش کی وارننگ آ رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپیل کی کہ پانی کی ہر بوند کو بچانا ہے۔ ہر گھر نل کا مطلب یہ نہیں کہ ٹونٹی لگاتار کھلی ہی رہے۔ اسے چوری نہ کرنے دیں۔ پینے کے پانی کا بحران نہ ہو۔ جتنے پانی کی ضرورت ہو، اتنا ہی خرچ کریں۔ آبپاشی کے لیے جدید اور بہترین طریقوں کا استعمال ہو۔ اس سے موجودہ اور مستقبل بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جدید سائنسی طریقے سے کم آبپاشی میں بہترین پیداوار کے سائنسی ہنر کو کھیتی میں اپنائیں۔ اس سے اچھا نتیجہ آئے گا۔
پچھلی حکومتوں نے استحصال اور پہچان کا بحران کھڑا کیا تھا لیکن اب بندیل کھنڈ ملک کی ضروریات کو پورا کر رہا ہے۔ ہندوستان کے سب سے بڑے انڈسٹریل سٹی کی تعمیر جھانسی کے پاس بندیل کھنڈ میں ہو رہی ہے۔ تجاویز آنی شروع ہو گئی ہیں۔ یہاں کے نوجوان اب ہجرت (پلاین) نہیں کریں گے۔ 9 سال میں یہاں کے لیے ہندوستان یونی لیور، جے کے سیمنٹ، رم جھم اسپات، این ٹی پی سی سولر پلانٹ اور گیل انڈیا وغیرہ کے پروجیکٹ منظور ہوئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آپ نے اچھے عوامی نمائندے منتخب کئے تو ترقیاتی اسکیمیں عملی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ آپ کے ایک ووٹ نے یو پی کی تقدیر بدل دی۔ ایودھیا میں رام مندر، کاشی وشواناتھ دھام، وندھیاواسنی کوریڈور کی تعمیر اور عظیم الشان مہاکمبھ ہوا۔ کانگریس کہتی تھی کہ رام-کرشن ہوئے ہی نہیں، سپا جے شری رام بولنے پر لاٹھی اور گولی چلاتی تھی۔ شری کرشن جنم اتسو اور کانور یاترا پر روک لگاتی تھی، لیکن محرم اور عید پر سڑکوں پر ہلڑ بازی کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی تھی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اب ارکانِ اسمبلی عقیدت کے مراکز کے لیے جو بھی تجویز دیتے ہیں، حکومت سیاحت میں خوبصورتی کی اسکیم کے تحت اسے پورا کرتی ہے۔ اب حکومت کا پیسہ قبرستان کی باونڈری وال پر خرچ نہیں ہوتا۔ مودی جی کی قیادت اور عوام کے ایک ووٹ کے فیصلے نے بندیل کھنڈ کی تقدیر بدل دی۔ حکومت تعلیم، صحت، آبپاشی اور روزگار وغیرہ کے لیے نئی اسکیمیں لا رہی ہے۔اس دوران ریاستی وزیر برائے جل شکتی رام کیش نشاد، راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ بابورام نشاد، رکنِ اسمبلی منیشا انوراگی، ڈاکٹر منوج پرجاپتی، ضلع پنچایت صدر جینتی راجپوت، بی جے پی کے ریاستی نائب صدر دیویش کوری، سابق رکنِ پارلیمنٹ پشپیندر سنگھ چندیل اور بی جے پی کی ضلع صدر شکنتلا نشاد وغیرہ موجود رہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن