شمالی کوریا کے جوہری مسئلے کے حل کے لئے جنوبی کوریائی صدر کی تجویز
سیول، 21 جون (ہ س)۔ جنوبی کوریا کے صدر لی جے-میونگ نے کہا ہے کہ انہوں نے جی-7 سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے واضح طور پر کہا کہ شمالی کوریا کے جوہری مسئلے کو دیگر بین الاقوامی بحرانوں کی طرح نہیں سلجھایا جا سکتا۔ فرانس کے ایویان-لی
جنوبی کوریا کے صدر لی جے-میونگ - فائل فوٹو


سیول، 21 جون (ہ س)۔ جنوبی کوریا کے صدر لی جے-میونگ نے کہا ہے کہ انہوں نے جی-7 سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے واضح طور پر کہا کہ شمالی کوریا کے جوہری مسئلے کو دیگر بین الاقوامی بحرانوں کی طرح نہیں سلجھایا جا سکتا۔ فرانس کے ایویان-لیس-بیس میں منعقدہ سربراہی اجلاس کے دوران دونوں رہنماوں کے درمیان ہوئی بات چیت میں شمالی کوریا کا جوہری پروگرام اہم مسئلہ رہا۔

جنوبی کوریا کی نیوز ایجنسی یونہاپ کے مطابق، یورپ کے 10 روزہ دورے کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں لی نے بتایا کہ ٹرمپ نے افسوس ظاہر کیا کہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار تیار کرنے سے پہلے اس مسئلے کا حل نہیں ہو سکا۔ اس کے جواب میں لی نے کہا کہ جزیرہ نما کوریا کی صورتِ حال مشرقِ وسطیٰ جیسے دیگر خطوں سے مختلف ہے اور اس کے لیے خصوصی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

لی نے ٹرمپ کے سامنے مرحلہ وار حل کی تجویز رکھی، جس کے تحت پہلے شمالی کوریا میں جوہری مواد کی پیداوار کو روکا جائے اور پھر موجودہ جوہری مواد کو ملک سے باہر بھیجنے جیسے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ طویل مدتی ہدف مکمل طور پر جوہری تخفیفِ اسلحہ ہونا چاہیے، لیکن اس سے پہلے عملی اور قلیل مدتی اقدامات پر توجہ دینا ضروری ہے۔

صدر کے مطابق، ٹرمپ نے اس تجویز کو ایک ممکنہ متبادل بتایا اور کہا کہ وہ اس پر غور کریں گے۔ لی نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر شمالی کوریا کے مسئلے کا مستقل حل نہ نکل پانے کے حوالے سے فکرمند نظر آئے۔

جنوبی کوریائی صدر نے اعادہ کیا کہ ان کی حکومت شمالی کوریا کے ساتھ ٹوٹے ہوئے رابطے کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں جاری رکھے گی، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا اپنی سیکورٹی کے لیے امریکہ کو اہم مانتا ہے، اس لیے سیول امریکہ اور پيونگ يانگ کے درمیان بات چیت کو آگے بڑھانے میں تعاون کرے گا۔

دورے کے دوران لی نے ویٹیکن میں 14ویں پوپ لیو سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے پوپ کو اگلے سال جنوبی کوریا میں منعقد ہونے والے ’ورلڈ یوتھ ڈے‘ پروگرام میں شرکت کی دعوت دی اور شمالی کوریا نیز دونوں کوریاوں کے درمیان واقع غیر فوجی علاقے (ڈی ملٹرائزڈ زون - ڈی ایم زیڈ) کا دورہ کرنے کی درخواست کی۔

لی کے مطابق، پوپ نے اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ صدر نے کہا کہ پوپ کو جنوبی کوریا اور جزیرہ نما کوریا میں امن کے قیام کی کوششوں میں خاص دلچسپی ہے۔

جنوبی کوریا کے صدر نے یہ بھی بتایا کہ بات چیت کے دوران پوپ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ وہ سیمسنگ کی گھڑی اور موبائل فون نیز ہونڈائی کی کار کا استعمال کرتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande