
شمالی کشمیر کے ممبر پارلیمنٹ انجینئر رشید کے استعفیٰ پر مشورے جاری، رشید پچھلے سات سال سے جیل میں بند ہیںسرینگر، 21 جون (ہ س )۔
عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) نے ممبر پارلیمنٹ انجینئر رشید کے لوک سبھا سے استعفیٰ دینے کے اظہار کے ارادے پر اپنے نچلی سطح کے کیڈر کی رائے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ بتاتے ہوئے کہ وہ ان لوگوں تک مؤثر طریقے سے پہنچنے اور ان کی خدمت کرنے میں ناکام رہے جنہوں نے انہیں بڑے مینڈیٹ سے منتخب کیا تھا۔ ایک بیان میں، اے آئی پی کے چیف ترجمان انعام النبی نے کہا کہ پارٹی کی سیاسی امور کی کمیٹی نے اس معاملے پر تفصیلی غوروخوض کیا اور بارہمولہ پارلیمانی حلقہ کے تمام 18 اسمبلی حلقوں میں پارٹی عہدیداروں اور کیڈروں کو شامل کرتے ہوئے ایک وسیع البنیاد مشاورتی عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔انعام نے کہا، مسئلے کے تمام پہلوؤں کا بغورجائزہ لینے کے بعد، سیاسی امور کی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ مختلف سطحوں پرپارٹی کے کارکنان دو روزہ مشاورتی مشق میں حصہ لیں گے تاکہ اس بات پرغورکیا جاسکے کہ آیا انجینئررشید کورکن پارلیمنٹ رہنا چاہیے یا اس عہدے سے دستبردار ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت ہوتو پارٹی اپنے کارکنوں کے درمیان خفیہ رائے شماری کرسکتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اراکین آزادانہ اور بغیر کسی دباؤ کے اپنے خیالات کا اظہار کرسکیں۔ ترجمان کے مطابق، پنچایت اور بلاک کی سطح پر پارٹی کے عہدیدار اس مسئلے پر رائے جمع کرنے کے لیے عام لوگوں اور سماج کے مختلف طبقوں سے بات چیت کریں گے۔ ان کی حتمی رائے ان جذبات کی عکاسی کرے گی جو مشاورتی عمل کے دوران لوگوں نے ان تک پہنچایا تھا۔ انعام نے کہا، مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ انجینئر رشید کے مستقبل کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ بحیثیت رکن پارلیمنٹ ان لوگوں کی خواہشات اورامنگوں کے مطابق ہو جنہوں نے ان پر اور پارٹی پر اعتماد کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشاورت کے نتائج اور اس کے بعد ووٹنگ کے عمل سے باضابطہ طور پر انجینئر رشید کو آگاہ کیا جائے گا، جس سے وہ اس معاملے پر باخبر فیصلہ کر سکیں گے۔ انعام نے داخلی جمہوریت اور عوامی احتساب کے لیے پارٹی کی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا خیال ہے کہ بڑے فیصلوں کو اس کے کیڈر اور ان لوگوں کی اجتماعی حکمت سے تشکیل دینا چاہیے جن کی وہ نمائندگی کرتی ہے۔ غور طلب ہے کہ ممبر پارلیمنٹ انجینئر رشید تہاڑ جیل میں پچھلے سات سال سے بند ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Aftab Ahmad Mir