
حیدرآباد ، 21 جون (ہ س)۔ بی آرایس کے ریاستی سکریٹری سابق صدرنشین تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن امتیاز اسحق نے اقلیتی مسائل پرکانگریس حکومت کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ آج محبوب نگرمیں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیاکہ کانگریس نے انتخابات کے دوران جاری کئے گئے مائناریٹی ڈیکلریشن سے مکمل انحراف کرتے ہوئے مسلمانوں اوردیگراقلیتوں کودھوکہ دیاہے۔ امتیازاسحاق نے کرکٹ کی اصطلاح کا دلچسپ اورتیکھا استعمال کرتے ہوئے کانگریس کے اندرونی حالات کو بے نقاب کیا۔ بی آرایس کے قائد نے کہاکہ محمد اظہرالدین کوکانگریس نے اپنی ٹیم(کابینہ) میں توشامل کرلیا مگرانہیں کھیلنے بالخصوص بیٹنگ اورفیلڈنگ کرنے کا کوئی موقع نہیں دیاجارہا ہے۔ اس وقت محکمہ اقلیتی بہبود میں فہیم قریشی بولنگ کررہے ہیں اورمحمداظہرالدین بیٹنگ کررہے ہیں۔اقلیتی اموراوربجٹ کے تعلق سے وزیراقلیتی بہبود کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہیں اورنہ ہی انہیں کوئی آزادانہ فیصلے کرنے کی اجازت ہے۔ انہیں صرف گیسٹ وزیربناکررکھ دیاگیا ہے۔ محمد امتیازاسحق نے ریاست کی لا اینڈ آرڈرکی سنگین صورتحال پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں تلنگانہ کے تین مقامات جگتیال، محبوب نگراورملکاجگری میں مسلمانوں کے خلاف سنگین واقعات پیش آئے۔ ان واقعات پروزیراعلی اوروزیراقلیتی بہبود کی خاموشی معنی خیزہے۔ ایک طرف راہل گاندھی ملک بھرمیں محبت کی دوکان کھولنے کادعویٰ کررہے ہیں تودوسری طرف تلنگانہ میں ان کے ہی وزیراعلی ریونت ریڈی اس دکان میں نفرت کا سامان فروخت کررہے ہیں۔ ۔ ۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق