
کولکاتا، 21 جون (ہ س)۔ اٹاہار کے ایم ایل اے مشرف حسین نے ترنمول کانگریس کے اقلیتی سیل کے ریاستی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرکے مغربی بنگال کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کے اس فیصلے سے پارٹی کے اندر قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں قیاس آرائی کے مطابق وہ پیر کو ریاستی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کیمپ کے ساتھ دکھائی دے سکتے ہیں۔
ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر اٹاہار سیٹ سے جیت کر مشرف حسین اس بار دوسری بار ایم ایل اے بنے ہیں۔ وہ پچھلے کچھ سالوں میں پارٹی کے ایک نوجوان چہرے کے طور پر تیزی سے ابھرے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں طویل عرصے سے ترنمول اقلیتی تنظیم کے اندر ان کی مقبولیت اور اثر و رسوخ میں تیزی سے اضافے زیربحث ہیں۔
2021 کے اسمبلی انتخابات میں، ترنمول کانگریس نے سینئر لیڈر امل اچاریہ کی جگہ مشرف کو اٹاہار سیٹ سے الیکشن لڑنے کے لیے نامزد کیا۔ الیکشن جیتنے کے بعد اسمبلی میں ان کی تقاریر اور تنظیمی سرگرمی نے پارٹی قیادت کی توجہ حاصل کی۔ وہ خاص طور پر سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور پارٹی لیڈر ابھیشیک بنرجی کے قریبی ساتھی کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔
پارٹی کے اندر کئی سینئر اقلیتی لیڈروں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے انہیں صرف 30 سال کی عمر میں اقلیتی سیل کا ریاستی صدر مقرر کیا گیا تھا۔ انہیں اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کا چیئرمین بھی مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے تنظیم میں ان کی اہمیت میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا۔
اب مشرف حسین کے استعفیٰ اور باغی کیمپ میں جانے کے اشارے نے ترنمول کانگریس کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے وقت میں جب ریاستی سیاست میں اقلیتی ووٹ بینک کے حوالے سے نئے مساوات قائم ہو رہے ہیں، ان کا یہ اقدام ترنمول کانگریس کے لیے بڑا جھٹکا ثابت ہو سکتا ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ پیر کو ہونے والے اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں مشرف حسین کے اگلے سیاسی کردار کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کولگام لگ جائے گی۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی