
ماسکو، 21 جون (ہ س)۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو مضبوط کرنے اور سپلائی نیز ڈیمانڈ کے بہتر تال میل کے لیے ایک ’ایس سی او انرجی کنسورشیم‘ بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ تجویز ماسکو میں منعقدہ ایس سی او کے وزرائے توانائی کے اجلاس کے دوران پیش کی گئی۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی پریس ٹی وی کے مطابق، ایرانی نائب وزیر برائے توانائی مصطفیٰ رجبی نے ہفتہ کے روز بتایا کہ ان کے ملک نے رکن ممالک کو ایس سی او انرجی کنسورشیم کے قوانین اور ڈھانچے سے متعلق ایک ڈرافٹ پروپوزل (مسودہ) سونپا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایس سی او رہنماوں کے اگلے سربراہی اجلاس میں اس تجویز کا جائزہ لیا جائے گا اور اسے باقاعدہ طور پر اپنایا جا سکتا ہے۔
رجبی نے کہا کہ ایران نے رکن ممالک میں بجلی کی کمی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ان کے بجلی کے گرڈوں کو آپس میں جوڑنے کی بھی تجویز دی ہے۔ ان کے مطابق، یہ خیال پہلی بار سال 2024 میں ایس سی او کے ایک اجلاس کے دوران سامنے آیا تھا اور رکن ممالک نے اس سمت میں ایران کی طرف سے تیار کردہ ڈرافٹ دستاویز کا خیرمقدم کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران ملکی سطح پر شمسی توانائی (سولر انرجی) کی توسیع کے پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے اور ساتھ ہی اتحادی ممالک کے ساتھ توانائی کے شعبے میں شراکت داری بڑھا کر اپنی بجلی کی پیداوار کے ذرائع میں تنوع لانا چاہتا ہے۔
رجبی نے کہا کہ ایران ایس سی او ممالک کے درمیان علاقائی بجلی کی تجارت کی مارکیٹ تیار کرنے، اسمارٹ گرڈ پروجیکٹوں کو فروغ دینے اور توانائی کے تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک سال میں ایران نے اپنی شمسی توانائی کی صلاحیت کو پانچ گنا تک بڑھایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک ایٹمی توانائی کی پیداوار کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ایس سی او کے اندر انرجی کنسورشیم تشکیل پاتا ہے، تو اس سے رکن ممالک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے، علاقائی توانائی کی سیکورٹی بڑھانے اور اقتصادی تعاون کو نئی رفتار ملنے کا امکان ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن