
جماعت اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے تحت کڑکڑڈوما کورٹ کی مسجد آمنہ فردوس میں درسِ قرآن، موجودہ حالات میں دینی استقامت پر زورنئی دہلی،21جون(ہ س)۔
جماعت اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے زیرِ اہتمام کڑکڑڈوما کورٹ کی مسجد آمنہ فردوس میں آج نمازِ ظہر کے بعد ایک بامقصد درسِ قرآن کا انعقاد کیا گیا، جس میں سورة الکافرون کا ترجمہ اور موجودہ حالات کے تناظر میں اس کی تفسیر پیش کی گئی۔ درسِ قرآن سے امیرِ مقامی جماعت اسلامی ہند لکشمی نگر، فلاح الدین فلاحی نے خطاب کرتے ہوئے سورة الکافرون کے پس منظر، اس کے مرکزی پیغام اور عصرِ حاضر میں اس کی معنویت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
فلاح الدین فلاحی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سورة الکافرون ایک مکی سورت ہے، جو اس وقت نازل ہوئی جب کفارِ مکہ نے نبی کریمﷺ کے سامنے دین کے معاملے میں سمجھوتے کی تجویز پیش کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ کفارِ مکہ نے حضور اکرمﷺ سے کہا تھا کہ کچھ عرصہ آپ ان کے معبودوں کی عبادت کرلیں اور کچھ عرصہ وہ اسلام کے طریقے کو اختیار کرلیں، مگر اللہ تعالیٰ نے اسی موقع پر سورة الکافرون نازل فرما کر یہ واضح اعلان کر دیا کہ اسلام عقیدے اور عبادت کے معاملے میں کسی قسم کے سمجھوتے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ اس سورہ میں “لکم دینکم ولی دین” کے ذریعے نہ صرف اہلِ ایمان کو اپنے عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہنے کی تعلیم دی گئی ہے بلکہ ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ مسلمان دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ امن، خیر سگالی، حسنِ سلوک اور بھائی چارے کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں، لیکن عبادت اور عقیدے کے معاملے میں اپنے دین سے ہٹ نہیں سکتے۔
انہوں نے موجودہ حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ہندوستانی مسلمانوں کو بھی ایک طرح سے مکی دور جیسے حالات کا سامنا ہے، جہاں ان پر بعض ایسے نعرے، تصورات اور کلمات مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اسلامی عقیدے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے نازک حالات میں سورة الکافرون مسلمانوں کو یہ سبق دیتی ہے کہ وہ اپنے ایمان، عقیدے اور دینی شناخت پر پوری مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں اور کسی بھی دباو¿ کے سامنے دین کے معاملے میں سمجھوتہ نہ کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسلام دوسروں کے ساتھ نفرت نہیں بلکہ احترامِ انسانیت، بقائے باہمی اور خیر سگالی کا درس دیتا ہے۔درسِ قرآن کے اس پروگرام میں رکنِ جماعت محمد اسلم بھی شریک رہے۔ اس کے علاوہ تاج انکلیو سے رکنِ جماعت واثق امام اور جامعہ مسجد کے امام حفظ الرحمن صاحب سمیت جماعت کے دیگر کارکنان اور مقامی افراد کی بھی قابلِ ذکر تعداد موجود رہی۔ پروگرام کے اختتام پر حفظ الرحمن صاحب نے دعا کرائی، جس میں ملک و ملت کی سلامتی، مسلمانوں کے ایمان و اتحاد، اور موجودہ حالات میں دین پر استقامت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais