
رانچی، 21 جون (ہ س)۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے ذریعہ منعقدہ یو جی نیٹ-2026 کا دوبارہ امتحان، اتوار کو جھارکھنڈ کے 67 امتحانی مراکز پر پرامن اور منظم ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔ امتحان کے لیے ریاست بھر میں وسیع حفاظتی اور انتظامی تیاریاں کی گئی تھیں۔ دارالحکومت رانچی میں امتحانی مراکز کی سب سے زیادہ تعداد (21) تھی، جہاں امیدواروں کی ایک بڑی تعداد نے امتحان دیا۔
امتحان کے کامیاب انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے تمام امتحانی مراکز پر سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے تھے۔ ہر مرکز پر مجسٹریٹ تعینات کیے گئے تھے، جبکہ مرد اور خواتین پولیس اہلکاروں کو سیکیورٹی کے فرائض سونپے گئے تھے۔ امتحانی مراکز کے اندر اور باہر مسلسل نگرانی رکھی گئی تاکہ کسی قسم کی گڑبڑ یا بدنظمی کو روکا جا سکے۔
امیدواروں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے داخلے کے عمل، شناخت کی تصدیق، سیکورٹی چیک اور بیٹھنے کے انتظامات کو ہموار کیا گیا۔ امیدواروں کو بروقت مراکز میں داخل کیا گیا اور امتحان کے انعقاد کے دوران تمام ہدایات پر سختی سے عمل کیا گیا۔
رانچی کے سب ڈویڑنل آفیسر (ایس ڈی او) کمار رجت نے بتایا کہ ضلع کے تمام 21 امتحانی مراکز پر امتحان مکمل طور پر پرامن اور منظم انداز میں منعقد ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ کا بنیادی مقصد امیدواروں کے لیے ایک محفوظ، منصفانہ اور دباو¿ سے پاک ماحول فراہم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام مراکز پر مناسب سیکورٹی فورسز، مجسٹریٹ اور مانیٹرنگ ٹیمیں تعینات کی گئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ امتحان کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ یا خلل واقع نہیں ہوا۔ تمام مراکز پر قائم کردہ معیارات کے مطابق انتظامات کیے گئے تھے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ امیدواروں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس دوران سٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پارس رانا نے امتحان کے دوران سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے مختلف امتحانی مراکز کا معائنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ امتحان کی رازداری اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے تمام مراکز پر جیمرز لگائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ مراکز کے اندر اور باہر پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں کی مناسب نفری تعینات کی گئی تھی۔
امتحان کے اختتام کے بعد امتحانی مراکز سے باہر نکلنے والے امیدواروں نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ تاہم، کچھ طلباءنے سوالیہ پرچہ اور مسابقتی امتحانات کے معیار کے بارے میں بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ امیدوار پرینکا کماری نے بتایا کہ اس سال کا سوالیہ پرچہ نسبتاً متوازن تھا اور زیادہ تر سوالات طے شدہ نصاب پر مبنی تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امتحانی مرکز میں انتظامات بھی بہترین تھے جس سے امتحان دینے میں آسانی ہوئی۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی