
تہران،21جون(ہ س)۔ایرانی خبر رساں ایجنسی ''فارس'' نے ایک فوجی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب بھی بند ہے اور پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی اور یہ پابندی اگلے نوٹس تک برقرار رہے گی۔اس سے ایک روز قبل اسرائیلی فوج نے لبنان میں اپنی کارروائیاں تیز کر دی تھیں اور حزب اللہ کے متعدد ٹھکانوں کو مختلف علاقوں میں نشانہ بنایا تھا۔اسرائیلی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں ان حملوں کے جواب میں کی گئیں ،جو جنوبی لبنان سے ان کی افواج اور شمالی اسرائیل کے علاقوں پر کیے گئے تھے۔رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران نے 60 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے، تاہم پاسدارانِ انقلاب نے ہفتے کے روز اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے باوجود امریکی فوج نے کہا ہے کہ تجارتی جہازوں کی آمد و رفت جاری ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ہفتے کے روز تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت جاری ہے اور ایران اس اسٹریٹجک گزرگاہ پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتا۔سینٹکام کے ایک ترجمان نے ''العربیہ انگلش'' کو بتایا کہ ہرمز میں ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے اور امریکی افواج صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس تسلسل کو برقرار رکھا جا سکے۔
سینٹکام نے اپنے ''ایکس'' (ٹوئٹر) اکاو¿نٹ پر ایک بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں آج اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ امریکی افواج خطے میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ بحری آزادی کو یقینی بنایا جا سکے۔ادارے نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ طے شدہ معاہدے کی تمام شقوں کی پابندی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اس بین الاقوامی آبی راستے سے گزر محفوظ اور بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے اور 55 تجارتی جہازوں نے بڑی مقدار میں سامان اور 1 کروڑ 70 لاکھ بیرل سے زائد تیل عالمی منڈیوں تک منتقل کیا ہے۔سینٹکام کے مطابق امریکی افواج خطے میں موجود اور چوکس ہیں تاکہ معاہدے پر عملدرآمد جاری رہے اور اس کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan