عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود، اپریل سے 14 جون تک برآمدات میں 15 فیصد اضافہ : گوئل
کہا، دسمبر تک ہندوستان-یورپی یونین تجارتی معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے، اگلے سال فروری-مارچ سے نافذ ہوں گے نئی دہلی، 21 جون (ہ س)۔ مرکزی کامرس اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے اتوار کو کہا کہ عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے باوجود، ملک کی تجارتی ا
گو


کہا، دسمبر تک ہندوستان-یورپی یونین تجارتی معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے، اگلے سال فروری-مارچ سے نافذ ہوں گے

نئی دہلی، 21 جون (ہ س)۔ مرکزی کامرس اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے اتوار کو کہا کہ عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے باوجود، ملک کی تجارتی اشیاء کی برآمدات نے رواں مالی سال 2026تا2027 میں اپریل سے 14 جون تک تقریباً 15 فیصد کا اضافہ درج کیا ہے۔ ہندوستان کی برآمدات مئی میں 18 فیصد بڑھ کر 45.2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جو چھ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔

مرکزی وزیر تجارت اور صنعت نے یہ بات ممبئی میں یوگا ڈے کے موقع پر چارٹرڈ اکاو¿نٹنٹس کے ساتھ بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ 50 فیصد امریکی محصولات کے نفاذ کے باوجود گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں ہندوستان کی برآمدات میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اگر ہم اپریل اور مئی کے پورے مہینوں کے ساتھ ساتھ جون کے 14 دنوں کے دستیاب اعداد و شمار کو دیکھیں تو برآمدات میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔وہیں اس دوران تجارتی خسارہ بڑھ کر 28.21 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا۔ اپنے خطاب کے دوران، گوئل نے چارٹرڈ اکاونٹنٹس پر زور دیا کہ وہ ایک وکست بھارت کی تعمیر میں فعال طور پر تعاون کریں۔

تجارت اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے کہا کہ ہندوستان اور 27 رکنی یورپی یونین (ای او) کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے ) پر دسمبر تک دستخط ہو جائیں گے اور یہ اگلے سال فروری-مارچ کے دوران نافذ ہونے کا امکان ہے۔ اس سال 27 جنوری کو ہندوستان اور یورپی یونین نے مذاکرات کے اختتام کا اعلان کیا تھا۔

وزارت تجارت 15 جولائی کو جون کے لیے سرکاری برآمدی درآمدات کے اعداد و شمار جاری کرے گی۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل تا مئی 2026تا2027 کے دوران ملکی برآمدات 16.09 فیصد اضافے سے 88.91 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 15.14 فیصد اضافے سے 145.35 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس دوران 56.44 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande