کرائم برانچ نے دھوکہ دہی کے معاملے میں تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا
جموں, 21 جون (ہ س)۔ کرائم برانچ کے اسپیشل کرائم ونگ نے ملازمت میں دھوکہ دہی اور جعلی دستاویزات کے استعمال سے متعلق دو الگ الگ معاملات میں ایک ریٹائرڈ پولیس اہلکار سمیت تین افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ سرکاری بیان کے مط
Crime branch


جموں, 21 جون (ہ س)۔ کرائم برانچ کے اسپیشل کرائم ونگ نے ملازمت میں دھوکہ دہی اور جعلی دستاویزات کے استعمال سے متعلق دو الگ الگ معاملات میں ایک ریٹائرڈ پولیس اہلکار سمیت تین افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

سرکاری بیان کے مطابق رام نگر کے رہائشی ریٹائرڈ اسسٹنٹ سب انسپکٹر حمید اللہ کے خلاف ایک شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ انہوں نے جموں و کشمیر پولیس میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے آٹھویں جماعت کا جعلی اسکول لیونگ سرٹیفکیٹ پیش کیا تھا۔ چیف ایجوکیشن آفیسر ادھم پور کی تصدیق میں معلوم ہوا کہ گورنمنٹ ہائر اسیکنڈری اسکول بسنت گڑھ کے ریکارڈ میں اس نام کا کوئی امیدوار موجود نہیں تھا، جبکہ محکمہ جاتی تحقیقات میں بھی ان کے خلاف فوجداری کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔

دریں اثنا، مینڈھر کے رہائشی محمد یونس اور سرفراز احمد کے خلاف چار افراد کی شکایت پر ایک اور مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ شکایت کنندگان نے الزام لگایا کہ دونوں ملزمان نے ان کے بچوں کو ملٹری انجینئرنگ سروسز (ایم ای ایس) میں ملازمت دلانے کا جھانسہ دے کر نقد اور آن لائن ذرائع سے چھ لاکھ روپے سے زائد رقم وصول کی۔

کرائم برانچ کے مطابق ملزمان نے بعد ازاں چیف انجینئر، ہیڈکوارٹر سنٹرل کمانڈ، 56 اے پی او کے جعلی دستخطوں اور مہروں سے مزین تقرری نامے بھی فراہم کیے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے کی گئی جانچ میں یہ تقرری نامے جعلی ثابت ہوئے۔

کرائم برانچ نے دونوں معاملات میں باضابطہ ایف آئی آر درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande