امریکہ نے اسرائیل سے لبنان میں فوجی کارروائی روکنے کو کہا، ایران سے مذاکرات پر فوکس
واشنگٹن/تل ابیب، 21 جون (ہ س)۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، امریکہ نے اسرائیل پر دباو ڈالا ہے کہ وہ لبنان میں کسی بھی فوجی جارحیت سے بچے، تاکہ سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ ہونے والے اہم مذاکرات متاثر نہ ہوں۔ ترکیہ کی نیوز ایجنسی اناطولو ایج
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو - فائل فوٹو


واشنگٹن/تل ابیب، 21 جون (ہ س)۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، امریکہ نے اسرائیل پر دباو ڈالا ہے کہ وہ لبنان میں کسی بھی فوجی جارحیت سے بچے، تاکہ سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ ہونے والے اہم مذاکرات متاثر نہ ہوں۔

ترکیہ کی نیوز ایجنسی اناطولو ایجنسی نے اسرائیل کے چینل 13 کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے، جس میں ایک نامعلوم اسرائیلی سفارت کار کا کہنا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ نے اسرائیل کو واضح پیغام بھیجا ہے کہ ایسی کوئی بھی فوجی کارروائی نہیں کی جانی چاہیے جس سے ایران کے ساتھ جاری سفارتی عمل خطرے میں پڑ جائے۔

رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایسے حملے، جن سے ایران کے ساتھ بات چیت ختم ہو سکتی ہے، انہیں امریکہ کے ساتھ پہلے سے تال میل (مشورے) کے بغیر انجام نہیں دیا جانا چاہیے۔

اس دوران، اسرائیلی فوج کو اپنے فضائی اور زمینی حملوں میں نمایاں کمی لانے، لبنان میں اپنے کنٹرول والے علاقوں میں فوجیوں کو برقرار رکھنے اور فوجی کارروائی کو صرف ’’فوری خطرے‘‘ کے حالات تک محدود رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

تاہم، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ ضرورت پڑنے تک مقبوضہ علاقوں میں موجود رہے اور کسی بھی حملے کا سخت جواب دے۔

دوسری طرف، سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے روانہ ہونے سے پہلے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں سے مختصر بات چیت کی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے امید ہے کہ ہم جوہری معاملے اور لبنان میں جنگ بندی کو لے کر پیش رفت حاصل کر پائیں گے۔ یہ دونوں بے حد اہم مسائل ہیں جن پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا لبنان میں جاری تنازعہ سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، تو جے ڈی وینس نے کہا کہ ’’سرخیوں کے باوجود حالات میں بہتری آ رہی ہے اور لڑائی کی شدت کم ہوئی ہے۔ ہمیں اس عمل کا احتیاط کے ساتھ انتظام کرنا ہوگا تاکہ اسرائیل اور لبنان دونوں کی سیکورٹی یقینی بنائی جا سکے۔‘‘

جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ مستقل جنگ بندی کے لیے طویل عرصے تک تنازعہ کو روکنا ضروری ہے اور امریکہ اسی سمت میں کام کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکہ علاقائی کشیدگی کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ بات چیت کو کامیاب بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جب کہ اسرائیل اپنی سیکورٹی کے خدشات کو ترجیح دے رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande