ایران پر ٹرمپ اور میلونی میں لفظی جنگ تیز، سیاسی تنازعہ میں اضافہ
انقرہ/روم، 21 جون (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ فرانس کے ایویان-لیس-بیس میں منعقدہ جی-7 سربراہی اجلاس کے بعد دونوں رہنماوں نے ایک دوسرے پر عوامی طور پر سخت الزامات لگائے ہیں، جس س
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی - فائل فوٹو


انقرہ/روم، 21 جون (ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ فرانس کے ایویان-لیس-بیس میں منعقدہ جی-7 سربراہی اجلاس کے بعد دونوں رہنماوں نے ایک دوسرے پر عوامی طور پر سخت الزامات لگائے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے رہنماوں کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی بحث شروع ہو گئی ہے۔

ترکیہ کی نیوز ایجنسی اناطولو ایجنسی کے مطابق، ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا کہ جی-7 میٹنگ کے دوران میلونی نے ان کے ساتھ کئی بار فوٹو کھنچوانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ اٹلی میں میلونی کی مقبولیت کم ہو رہی ہے اور وہ اپنی شبیہ بہتر کرنے کے لیے ان کے ساتھ نزدیکی دکھانا چاہتی ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ اٹلی نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں اپنے کچھ اڈوں اور ہوائی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہیں دی تھی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اب جب امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں کامیابی حاصل کر لی ہے، تو میلونی پھر سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

تاہم، وزیر اعظم میلونی نے ٹرمپ کے الزامات کو سرے سے خارج کر دیا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات ’’پوری طرح من گھڑت‘‘ ہیں۔ میلونی نے کہا کہ ان کی مقبولیت کسی غیر ملکی رہنما سے تعلقات پر نہیں، بلکہ اٹلی کے قومی مفادات کا تحفظ کرنے کی ان کی صلاحیت پر مبنی ہے۔

میلونی نے یہ بھی واضح کیا کہ اٹلی میں موجود امریکی فوجی اڈوں کا استعمال صرف دوطرفہ معاہدوں کے تحت ہی کیا جا سکتا ہے اور ان کی حکومت ان قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا، ’’اٹلی ایک خودمختار ملک ہے اور اس کے قومی مفادات سب سے اوپر ہیں۔‘‘

تنازعہ اس وقت اور بڑھ گیا جب ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ میلونی ان کے ساتھ فوٹو کھنچوانے کے لیے بے تاب تھیں۔ اس کے جواب میں میلونی نے کہا کہ امریکی صدر کے دعوے حقائق کے اعتبار سے غلط ہیں اور اتحادی ممالک کے رہنماوں کے لیے اس طرح کی زبان مناسب نہیں ہے۔

ٹرمپ کے تبصروں کے بعد اٹلی کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ انٹونیو تاجانی نے بھی اپنا مجوزہ دورہ امریکہ منسوخ کر دیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے اشارے ملے۔

قابلِ ذکر ہے کہ کچھ وقت پہلے تک ٹرمپ اور میلونی کو قریبی سیاسی اتحادی مانا جاتا تھا۔ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کی جانے والی میلونی واحد اہم یورپی رہنما تھیں۔ لیکن ایران کو لے کر امریکی پالیسی، فوجی تعاون اور حالیہ عوامی بیانات نے دونوں رہنماوں کے تعلقات میں دراڑ پیدا کر دی ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ تنازعہ صرف ذاتی تبصروں تک محدود نہیں ہے، بلکہ امریکہ اور اٹلی کے درمیان خارجہ پالیسی اور سیکورٹی امور میں ابھرتے ہوئے اختلافات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ فی الحال، دونوں فریقین کی جانب سے کسی نرمی کے اشارے نہیں ملے ہیں، جس سے آنے والے دنوں میں یہ سفارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande