مدرسہ عالیہ کے بشمول 400 عمارتیں مخدوش
حیدرآباد، 21 جون (ہ س)۔موسم باراں کی آمد سے قبل مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآبادنے جن عمارتوں کی مخدوش عمارتوں کے طورپرنشاندہی کی ہے ان 400 عمارتوں میں تاریخی مدرسۂ عالیہ کی عمارت بھی شامل ہے۔ بتایاجاتاہے کہ مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد کی جانب سے تیار
مدرسہ عالیہ کے بشمول 400 عمارتیں مخدوش


حیدرآباد، 21 جون (ہ س)۔موسم باراں کی آمد سے قبل مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآبادنے جن عمارتوں کی مخدوش عمارتوں کے طورپرنشاندہی کی ہے ان 400 عمارتوں میں تاریخی مدرسۂ عالیہ کی عمارت بھی شامل ہے۔ بتایاجاتاہے کہ مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد کی جانب سے تیارکردہ فہرست میں اس مدرسہ کانام شامل ہونے کے بعدکہاجارہا ہے کہ مدرسۂ عالیہ کی عمارت کوغیرمحفوظ عمارت کی فہرست میں شامل کیاجاچکا ہے۔ ذرائع کے مطابق مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں موجود مخدوش عمارتوں کی نشاندہی کے سلسلہ میں ریاستی انچارج وزیرشہرکی ہدایت کے بعد انہیں پیش کی گئی۔تفصیلات میں بتایاگیاہے کہ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں377 مخدوش عمارتوں کی نشاندہی کی گئی ہےاور ان میں بیشتر عمارتوں کو مکمل طور پرغیرمحفوظ قراردیاجاچکاہے لیکن اس کے باوجودکئی عمارتیں ایسی ہیں جن میں مکین آباد ہیں ۔ مانسون کی آمد سے قبل کی جانے والی تیاریوں میں مخدوش عمارتوں کی نشاندہی اوران کے تخلیہ کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے متعلق بلدی عہدیداروں کاکہناہے کہ ان عمارتوں کو جو مکمل طور پر غیر محفوظ ہیں ان کا نہ صرف تخلیہ کروایا جائے گا بلکہ ان کے انہدام کی کاروائیوں کو بھی تیزی سے مکمل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔اس کے لئے مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآبادحیڈرا کی مدد حاصل کرے گی تاکہ بارش کے دوران کسی بھی طرح کا کوئی ناگہانی واقعہ نہ پیش آئے۔ شہرحیدرآباد میں مخدوش عمارتوں کی نشاندہی اوران کے انہدام کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے سلسلہ میں اعلیٰ عہدیداروں کا کہناہے کہ شہر کو محفوظ بنانے اور مانسون کے دوران مخدوش عمارتوں کے گرنے سے پیش آنے والے حادثات سے پاک بنانے کے لئے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں جن میں مانسون کے دوران سیلرکی کھدوائی پربھی مکمل پابندی عائدکرنابھی شامل ہے۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande