حقوق کے تحفظ کے لیے مذاکرات: ایران
تہران، 21 جون (ہ س)۔ ایران کے اسلامک ریولیشنری گارڈ کارپس (آئی آر جی سی) کے بحریہ کے افسر محمد اکبر زادہ نے کہا کہ ایران اپنے حقوق کے دفاع کے لیے مذاکرات کرتا ہے، رعایت دینے کے لیے نہیں۔ ایران کے دشمن اس کی طاقت دیکھ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ایران کے
ایران


تہران، 21 جون (ہ س)۔ ایران کے اسلامک ریولیشنری گارڈ کارپس (آئی آر جی سی) کے بحریہ کے افسر محمد اکبر زادہ نے کہا کہ ایران اپنے حقوق کے دفاع کے لیے مذاکرات کرتا ہے، رعایت دینے کے لیے نہیں۔ ایران کے دشمن اس کی طاقت دیکھ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا آوٹ لیٹ پریس ٹی وی کے مطابق، جنوبی ایران کے بندر عباس کے بندرگاہی شہر میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، آئی آر جی سی بحریہ میں سیاسی امور کے نائب سربراہ اکبرزادہ نے کہا کہ حالیہ واقعات نے ایک بار پھر فوجی، سیاسی اور سماجی سطح پر قومی طاقت کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو ثابت کر دیا ہے۔

انہوں نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکرات اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے کرتا ہے، رعایت دینے کے لیے نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر دوسرا فریق اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا تو ایران اپنے مفادات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مبینہ جارحانہ اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ نے ان کا فیصلہ کن اور مو¿ثر جواب دیا ہے۔ ان کے بقول، دشمن کی پالیسیاں صرف طاقت کی نمائش سے متاثر ہوتی ہیں۔

اکبرزادہ نے کہا، دشمن آپ کی طاقت دیکھ کر پیچھے ہٹ جاتا ہے، اس لیے نہیں کہ وہ آپ کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے، اکبر زادہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاہدے یا سفارتی عمل میں حقیقی سلامتی کی واحد ضمانت قومی طاقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایران نے ہمیشہ بیرونی دباو اور چیلنجز کا عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ قومی اتحاد اور طاقت کے ساتھ ایران مستقبل کے چیلنجوں کا بھی کامیابی سے مقابلہ کرے گا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande