امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ایپسٹین فائلز کے تمام ریکارڈز کو منظر عام پر لانے کی حمایت
واشنگٹن،17جون(ہ س)۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق ’سازشی نظریات کے حامی‘ تصور کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے اس کیس سے جڑے تمام ریکارڈز کو مکمل طور پر منظرِ عام پر لانے کی حمایت کی ہے۔منگل کے روز وہ امریکی ٹی وی
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی ایپسٹین فائلز کے تمام ریکارڈز کو منظر عام پر لانے کی حمایت


واشنگٹن،17جون(ہ س)۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق ’سازشی نظریات کے حامی‘ تصور کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے اس کیس سے جڑے تمام ریکارڈز کو مکمل طور پر منظرِ عام پر لانے کی حمایت کی ہے۔منگل کے روز وہ امریکی ٹی وی پروگرام'' دی ویو'' میں اپنے نئے کتاب کی تشہیر کے لیے شریک ہوئے، جہاں ان سے گزشتہ ہفتے نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ سے متعلق سوال کیا گیا۔رپورٹ میں امریکی انتظامیہ کے اندر ہونے والی بند کمرہ ملاقاتوں کا ذکر تھا، جن میں ایپسٹین سے جڑے مبینہ روابط اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے سامنے آنے والے تنازع کو سنبھالنے پر غور کیا گیا تھا۔

وینس نے گفتگو کے دوران کہا کہ اس معاملے میں شفافیت ضروری ہے اور عوام کو تمام حقائق تک رسائی ملنی چاہیے۔وینس نے کہا: سچ یہ ہے کہ ایپسٹین کیس کے حوالے سے مجھے کافی حد تک سازشی نظریات کا حامی سمجھا جاتا ہے، اور رپورٹ میں بھی اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں نے مجھے اسی طور پر بیان کیا ہے۔جب پروگرام کی ایک میزبان نے اشارہ کیا کہ وائٹ ہاو¿س کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز نے بھی انہیں اس کیس میں سازشی نظریات کا حامی قرار دیا تھا، تو وینس نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: مجھے سوزی پسند ہیں، لیکن ہاں، وہ سمجھتی ہیں کہ میں ایپسٹین کیس میں سازشی نظریات رکھتا ہوں۔انہوں نے مزید کہا: میرے خیال میں یہ بات حیران کن ہے کہ ایک ایسا شخص جو واضح طور پر ایک جنسی مجرم تھا، وہ اتنے زیادہ بااثر اور امیر لوگوں کے ساتھ رابطے میں تھا۔ یہ چیز مجھے بہت پریشان کرتی ہے۔نائب صدر نے کہا کہ وہ اس کیس سے متعلق تمام معلومات کو مکمل طور پر سامنے لانے کے حق میں تھے۔ ان کے مطابق میں مکمل شفافیت چاہتا تھا اور میں اس دعوے سے اختلاف کرتا ہوں کہ وائٹ ہاو¿س شفافیت کے معاملے میں پوری طرح پرعزم نہیں تھا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ میں ان فیصلوں کے وقت خود ان ملاقاتوں میں موجود تھا۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وینس اس معاملے کے نتائج اور انتظامیہ کے اندر پیدا ہونے والے دباو¿ پر تشویش کا شکار نظر آئے۔

پروگرام کے دوران شریک میزبان سنی ہوسٹن نے ایپسٹین فائلز کو عوام کے سامنے لانے کے مو¿قف پر وینس کے موقف کو سراہا، جبکہ دوسری میزبان آنا ناوارو نے ان سے صدر ٹرمپ اور ایپسٹین کے ماضی کے تعلقات سے متعلق سخت سوالات کیے۔ناوارو نے اشارہ کیا کہ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر فائلز جاری کرنے کی حمایت نہیں کی تھی اور بعد میں کچھ ریپبلکن اراکین کے دباو¿ پر اس معاملے پر موقف بدلا گیا۔وینس نے ٹرمپ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صدر نے ایپسٹین فائلز سے متعلق شفافیت کے قانون پر دستخط کیے تھے، جس نے ان دستاویزات کو جاری کرنے کی راہ ہموار کی۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایپسٹین کی ای میلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ سے نفرت کرتا تھا اور ٹرمپ نے خود پہلے ہی پولیس کو ایپسٹین کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

وینس کے مطابق ’مجھے اپنے صدر کا دفاع کرنا ہے‘۔ ایپسٹین کی ای میلز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ سے نفرت کرتا تھا اور ٹرمپ نے اس کے خلاف پولیس کو اطلاع بھی دی تھی۔ یہ وہ چیز ہے جو دستاویزات میں سامنے آئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ اس بات پر ناراض ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی اس کیس کو ان سے جوڑ کر سیاسی طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسے ان کے خلاف مہم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande