
پیرس،17جون(ہ س)۔گروپ آف سیون نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کا مقصد تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔بدھ کے روز جاری حتمی بیان میں ایران کے میزائل خطرات سے نمٹنے کی ضرورت کی نشان دہی کی گئی ہے۔ ساتھ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جہاز رانی کی آزادی اور بلا روک ٹوک گزرنے کا حق بین الاقوامی تجارت کی بنیاد ہے۔گروپ کے بیان میں یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ اس اہم آبی گزرگاہ کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے بارودی سرنگوں کے خاتمے میں حصہ لیں گے۔بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آبنائے ہرمز میں بغیر کسی پابندی یا فیس کے گزرنے کا حق بین الاقوامی تجارت کی بنیاد ہے۔بیان میں لبنان میں فوری جنگ بندی اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے لبنانی قیادت کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔ایک اور تناظر میں امریکہ اور گروپ آف سیون کے دیگر ممالک یوکرین میں جنگ ختم کرنے کے لیے روس پر دباو¿ بڑھا کر اپنی کوششوں کو تیز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس میں تیل اور گیس کے شعبوں پر سخت پابندیاں عائد کرنا اور کئیف کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں اور فضائی دفاعی نظام کی فراہمی میں توسیع کرنا شامل ہے۔ یہ سب کچھ سربراہی اجلاس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ہے۔
گروپ آف سیون نے کہا ہے کہ وہ روس پر عائد پابندیوں کو سخت کرے گا، بشمول تیل اور گیس کے شعبوں کو نشانہ بنانے والے اقدامات، جس کے ساتھ ساتھ فضائی دفاعی صلاحیتوں، اضافی نظاموں اور انٹرسیپٹر میزائلوں، نیز یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی فراہمی میں اضافہ کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز فرانس میں منعقدہ گروپ آف سیون کے اجلاس کے دوران اپنی گفتگو میں ایران، اسرائیل اور شام کو پیغامات دیے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کا بنیادی مقصد اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر اس نے ایسا کیا تو اس پر ’جہنم‘ نازل ہو گی۔ٹرمپ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ’ایران کے ساتھ معاہدہ منصفانہ ہے‘۔ انھوں نے تہران میں اب ایک ’عقل مند قیادت‘ کی تعریف کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan