
سنگاپور،16جون(ہ س)۔اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے (یونیسف) نے آج منگل کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا کے تقریباً تمام بچے کم از کم ایک ایسے موسمیاتی خطرے سے دوچار ہیں جو براہِ راست ماحول سے جڑا ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق 1اعشاریہ8 ارب بچے خشک سالی کے خطرے جبکہ 1اعشاریہ2 ارب بچے شدید گرمی کی لپیٹ میں آنے کے خدشے کا سامنا کر رہے ہیں۔یونیسف نے نشاندہی کی ہے کہ بچے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے غیر متناسب طور پر متاثر ہو رہے ہیں، جس کے باعث حکومتوں پر فوری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بنیادی ڈھانچے، آفات سے نمٹنے کی صلاحیت اور موافقت کے نظام میں سرمایہ کاری کریں تاکہ ان خطرات کو کم کیا جا سکے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ موسمیاتی خطرات کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی، ملیریا جیسے حشرات سے پھیلنے والی بیماریوں اور صاف پانی، صحت کی سہولیات اور سماجی خدمات تک رسائی کی صورتحال بھی بچوں کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 1اعشاریہ1 ارب بچے کم از کم تین باہم جڑے ہوئے موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ یہ ایک خطرناک سلسلہ ہے ،جس میں مختلف ماحولیاتی آفات ایک ساتھ اثر انداز ہو رہی ہیں، جس سے حکومتوں اور سماجی خدمات کے نظام پر شدید دباو¿ بڑھ رہا ہے۔یونیسف کی اعداد و شمار کی ڈائریکٹر روہینی سامپورنم سوامیناتھان اس رپورٹ کی شریک مصنف بھی ہیں، کہتی ہیں کہ معاملہ صرف ایک خطرے جیسے سیلاب، خشک سالی یا شدید گرمی تک محدود نہیں بلکہ بچے بیک وقت کئی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 66 کروڑ 20 لاکھ بچے استوائی طوفانوں کے خطرے میں ہیں، 33 کروڑ 70 لاکھ دریائی سیلاب جبکہ 3 کروڑ 30 لاکھ ساحلی سیلاب کے خطرے سے دوچار ہیں۔ تقریباً 1 ارب بچے ملیریا کے خطرے میں ہیں، جن میں زیادہ تر افریقہ میں رہتے ہیں۔2024 میں 85 ممالک میں 24 کروڑ 20 لاکھ بچوں کی تعلیم موسمیاتی آفات کے باعث متاثر ہوئی۔یونیسف نے صومالیہ، مڈغاسکر، میانمار، کمبوڈیا اور پاکستان کو سب سے زیادہ خطرے والے ممالک میں شامل کیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش، انڈونیشیا، نائجیریا، پاکستان اور تنزانیہ جیسے زرعی معیشت والے ممالک میں خشک سالی سے متاثرہ بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔خشکی والے ممالک میں رہنے والے بچے خاص طور پر زیادہ خطرات کا سامنا کرتے ہیں، جہاں انہیں خشک سالی، ریگستانی صورتحال، شدید گرمی اور اچانک آنے والے سیلاب جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ اسی طرح بوتسوانا اور برکینا فاسو جیسے ممالک میں پانی کے بحران کے مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan