
چنڈی گڑھ، 16 جون (ہ س)۔ اکال تخت صاحب کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب اور پوری کابینہ کو طلب کیے جانے کے بعد پنجاب کی سیاست گرم ہو گئی ہے۔ وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان نے منگل کو ان سے منسوب ایک ویڈیو کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ شرومنی اکالی دل لیڈر سکھبیر سنگھ بادل کے کہنے پر انہیں بدنام کرنے اور ان کی حکومت کے عوام دوست فیصلوں سے توجہ ہٹانے کے لئے ایک قابل نفرت عمل اور سیاسی سازش رچی جارہی ہے۔
اس واقعہ کو حکومت کے سخت انسداد توہین قانون اور پنجاب نواز فیصلوں کی وجہ سے پریشانی کو ہوا دینے کی ایک مایوس کن کوشش قرار دیتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیاسی اثر و رسوخ کے تحت کام کرنے والے اہلکاروں کو ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے زور دے کر کہا کہ وہ سری اکال تخت صاحب کو اعلیٰ سمجھتے ہیں اور اس کے عقیدے کے سامنے احترام اور عاجزی کے ساتھ اپنا سر جھکاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں بدنام کرنے کی کوششوں سے قطع نظر، وہ پنجاب کے’پانی، نوجوانوں، کسانوں اور زبان‘ کے مفاد میں جرا¿ت مندانہ فیصلے کرتے رہیں گے۔
وزیر اعلی بھگونت سنگھ مان نے کہا کہ شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ کھلے عام اکالی دل کا پرچار کرنے والے بن گئے ہیں۔ اب صرف یہ رہ گیا ہے کہ جتھیدار صاحب کے ذریعے ایک فرمان جاری کیا جائے: ’سکھبیر بادل کو ووٹ دو، ورنہ پنتھ خطرے میں ہے۔‘ ایسا فیصلہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ بھگونت سنگھ مان نے دنیا بھر کے پنجابیوں کے نام ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ میں نے جتھیدار صاحب پر واضح کر دیا کہ ویڈیو میں موجود شخص میں نہیں ہوں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ویڈیو میں دکھائے گئے شخص کی نہ جسم اور نہ ہی چہرہ ان سے مشابہت رکھتا ہے، اس کے باوجود ان کی شبیہ کو داغدار کرنے کے لیے جھوٹا اور گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’میں حیران ہوں کہ اتنے اعلیٰ مذہبی عہدوں پر فائز لوگ خود کو سیاسی ایجنڈوں اور جھوٹے پروپیگنڈے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال ہورہے ہیں، کچھ لوگ پنجاب کے پانی، نوجوانوں، کھیتی اور زبان کے تحفظ کے لیے میری حکومت کے تاریخی فیصلوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہیں سیاسی طور پر نشانہ بنانے کے لیے مذہب کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایسی کوششیں مکمل طور پر قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ سب جانتے ہیں کہ ان اداروں میں سیاسی تقرریاں اور فیصلے کیسے ہوتے ہیں۔ وزیراعلیٰ بھگونت سنگھ مان نے کہا کہ سکھ برادری اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ سیاسی طور پر مقرر کیے گئے کچھ عہدیدار بیرونی اثر و رسوخ میں کیسے فیصلے کرتے ہیں۔ میں اس ویڈیو اور اس طرح کے جھوٹے الزامات کے ذریعے مجھے بدنام کرنے کی کوششوں کو یکسر مسترد کرتا ہوں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan