
واشنگٹن،16جون(ہ س)۔امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے کے پائیدار نہ رہنے کے بڑھتے خدشات کے درمیان یورپی رہنما امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کے متبادل اسٹریٹجک راستے تلاش کرنے کے منصوبوں کی حمایت کی جا سکے۔برطانوی اخبار ’دی ٹیلیگراف‘ نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے سے متعلق مذاکرات، جو عالمی توانائی کی ترسیل کی ایک اہم شاہراہ ہے، اس ہفتے فرانس کے شہر ایویان لیہ بان میں ہونے والی جی7 سربراہی کانفرنس کے اہم ایجنڈوں میں شامل ہیں۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی، جب امریکہ اور ایران نے ایک ابتدائی معاہدے کا اعلان کیا جس کا مقصد کئی ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا بتایا گیا ہے۔یورپی رہنماؤں نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، جس سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات کم ہوئے ہیں۔
امکان ہے کہ برطانیہ اور فرانس اس سربراہی اجلاس کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یورپی اتحاد کا ایک منصوبہ پیش کریں گے، جو آبنائے ہرمز پر سے دباؤ کم کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہ واشنگٹن کو ایک طویل المدتی بین الاقوامی کوشش میں شامل کرنے کی کوشش کریں گے جس کا مقصد اس اسٹریٹجک سمندری راستے پر انحصار کم کرنا ہے۔ایک مغربی عہدیدار کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش نے توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث یورپی معیشتوں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یورپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ اس ساختی مسئلے سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کرے گا تاکہ مستقبل میں ایسے بحران دوبارہ پیدا نہ ہوں۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس کی برآمدات کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کا راستہ ہے۔ جب ایران نے ابتدائی امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اس راستے کو بند کیا تو سینکڑوں تیل بردار جہاز پھنس گئے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی میں شدید خلل پیدا ہوا۔اگرچہ صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز جنگ بندی کے ایک معاہدے کا اعلان کیا تھا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری پابندی ختم کرنے کی بات شامل تھی، تاہم پیر کو جاری ہونے والی ایک امریکی فوجی مشاورتی یادداشت میں کہا گیا کہ یہ پابندی جمعہ تک برقرار رہے گی، جس سے معاہدے کے عملی نفاذ کے بارے میں سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔آنے والی مذاکرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لائن نے کہا ہے کہ یورپی یونین توانائی کی فراہمی کے راستوں کو متنوع بنانے اور متبادل برآمدی راہداریوں کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ آبنائے ہرمز جیسے ''گلے کے پھندے ''پر انحصار کم کیا جا سکے۔ابھی تک یورپی تجاویز کی مکمل تفصیلات واضح نہیں ہیں، تاہم توانائی کے شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق ایک طویل المدتی بین الاقوامی ڈیٹرنس مشن کے قیام کی تجویز زیر غور ہے جس کا مقصد ایران کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی سے روکنا ہے۔ساتھ ہی یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ امریکہ سے یورپ کو تیل اور گیس کی برآمدات بڑھانے اور شمالی افریقہ سے توانائی کی درآمدات میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔معاہدے کے اعلان کے بعد کئی یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں میں فوجی سطح پر بھی حصہ لینے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔برطانیہ اور فرانس 15 ممالک پر مشتمل ایک مشترکہ اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں، جس نے جنگ بندی کے حتمی ہونے کے بعد اپنی کارروائیاں شروع کرنے کا عہد کیا ہے۔برطانوی رائل نیوی نے جہاز RFA Lyme Bay قبرص روانہ کیا ہے، جس کے ساتھ بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے والے خصوصی ڈرونز بھی موجود ہیں۔اسی طرح فرانس نے اپنا طیارہ بردار بحری جہاز ''چارلس ڈیگال'' خطے میں بھیج دیا ہے، جبکہ جرمنی نے اس مشن میں شرکت کے لیے متعدد بحری یونٹس تیار کر لیے ہیں۔برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ ان کا ملک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں اپنا کردار ادا کرے گا اور اس مقصد کے لیے بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے پہلے سے فوجی منصوبے تیار ہیں۔اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے بھی بین الاقوامی بحری موجودگی میں شرکت کی آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اطالوی پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan