
واشنگٹن،16جون(ہ س)۔امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں پر عائد امریکی محاصرہ 19 جون کو طے شدہ جنگ بندی کے معاہدے کی تکمیل تک برقرار رہے گا۔ فوج نے آج پیر کے روز ایک ہدایت نامے میں کہا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر فوجی محاصرہ بدستور نافذ ہے، جو وہاں سے آمد ورفت کو محدود کرتا ہے ... اور کسی کو بھی واضح ہدایات جاری ہونے سے پہلے گزرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کا متن اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کا اعلان اس ہفتے کے دوران کیا جائے گا، جبکہ معاہدے کی تفصیلات پر مزید بات چیت جاری ہے۔وینس نے سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ توقع کرتا ہے کہ یہ گزرگاہ طویل مدت تک بغیر کسی فیس کے کھلی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ معاملات ہیں جن پر ہم تکنیکی مذاکرات کے دوران بات کریں گے، کیونکہ ابھی اہم تفصیلات طے ہونا باقی ہیں اور ہم مل بیٹھ کر حل نکالیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپیکر اسمبلی محمد باقر قالیباف جمعہ کو سوئٹزر لینڈ میں دستخط کی تقریب میں تہران کی نمائندگی کریں گے، تاہم انہوں نے امریکہ کے نمائندے کا نام ظاہر نہیں کیا۔
اس کے برعکس ایران نے تصدیق کی ہے کہ ابتدائی معاہدے کے باوجود اسے امریکہ پر اعتماد نہیں ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ ایرانی عوام کا امریکی فریق پر عدم اعتماد اس قدر گہرا ہے کہ امریکہ کو ایرانیوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے بہت طویل راستہ طے کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ واشنگٹن اپنے وعدے پورے کرنے کا پابند ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں تہران جوابی کارروائی کرے گا۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے بقائی نے کہا کہ تہران سلطنت عمان اور دیگر ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ محفوظ گزرنے کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس گزرگاہ پر ایران کی خود مختاری مکمل طور پر محفوظ ہے اور فراہم کردہ خدمات کے عوض بعد میں فیس وصول کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ چند ماہ میں کیے گئے اقدامات ایران کی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تھے۔
ادھر ایک با خبر سفارت کار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوحہ میں اس ہفتے بالواسطہ اجلاس ہوں گے، جو 19 جون کو جنیوا میں ہونے والی با ضابطہ تقریب کی تیاری کے طور پر ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قطری ثالث 17 گھنٹے کے طویل مذاکرات کے بعد تہران سے واپس روانہ ہو گئے ہیں جن کے نتیجے میں یہ معاہدہ طے پایا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan