ایران کے جوہری معاہدے پر ٹرمپ انتظامیہ کے اندر اختلافات:رپورٹ میں دعویٰ
واشنگٹن ،16جون (ہ س)۔باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اندر ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے حوالے سے اختلافات پیدا ہو گئے ہیں، کیونکہ انٹیلی جنس جائزوں میں اس بات پر شکوک ظاہر کیے گئے ہیں
ایران کے جوہری معاہدے پر ٹرمپ انتظامیہ کے اندر اختلافات:رپورٹ


واشنگٹن ،16جون (ہ س)۔باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اندر ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے حوالے سے اختلافات پیدا ہو گئے ہیں، کیونکہ انٹیلی جنس جائزوں میں اس بات پر شکوک ظاہر کیے گئے ہیں کہ آیا تہران ان جوہری رعایتوں پر آمادہ ہوگا یا نہیں جنہیں واشنگٹن کسی بھی حتمی معاہدے کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے صدر ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا ہے کہ انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے جمع کی گئی معلومات ایران کے اصل عزائم اور آئندہ مذاکراتی مرحلے میں اس کے رویے کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا کر رہی ہیں۔تحفظات صرف سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف تک محدود نہیں ہیں، بلکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی داخلی مشاورت کے دوران تہران کے ساتھ اعلان کردہ مفاہمت کے حوالے سے اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کیا۔دوسری جانب نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے معاہدے کو آگے بڑھانے اور مذاکرات جاری رکھنے کی حمایت کی۔ذرائع کے مطابق مفاہمتی یادداشت کے اعلان سے قبل صدر ٹرمپ نے اعلیٰ سطح کے کئی اجلاس منعقد کیے، جن میں حکام نے انٹیلی جنس رپورٹس کا جائزہ لیا۔ ان رپورٹس میں اشارہ دیا گیا تھا کہ ایرانی حکام اندرونی سطح پر جن امور پر گفتگو کر رہے تھے، وہ ان باتوں سے مختلف تھے جو وہ ثالثوں اور امریکی فریق کے سامنے پیش کر رہے تھے۔ان اجلاسوں کے دوران جان ریٹکلف اورمارکو روبیو کا موقف تھا کہ دستیاب معلومات اس بات پر شکوک پیدا کرتی ہیں کہ آیا تہران واقعی ان جوہری اقدامات کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے، جن کا واشنگٹن مطالبہ کر رہا ہے۔ ایک ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی اندرونی گفتگو اور معاہدے کے تحت کیے جانے والے وعدوں کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاوس نے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیصلہ کرنے سے قبل مختلف آرائ اور موقف سنے تھے۔امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ٹرمپ تمام نقطہ ہائے نظر سنتے ہیں، لیکن حتمی فیصلہ انہی کا ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مفاہمتی یادداشت ان بنیادی خطوطِ قرمز پر پورا اترتی ہے، جو واشنگٹن کئی برسوں سے طے کیے ہوئے ہے۔ ان میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا، اس کے پاس اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کی ذخیرہ اندوزی نہ ہونے دینا اور عالمی بحری گزرگاہوں کو دباو کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے باز رکھنا شامل ہے۔یادداشت میں شامل جوہری شقوں کا انحصار اس بات پر ہے کہ دونوں فریق 60 روزہ مذاکراتی مدت کے دوران ایک زیادہ تفصیلی معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ فریقین کی باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔توقع ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جمعہ کے روز ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے۔اس اجلاس میں قطر اور پاکستان کے ثالث بھی شریک ہوں گے، جہاں مذاکرات کے اگلے مرحلے پر تبادل? خیال کیا جائے گا۔

اگرچہ 14 نکات پر مشتمل ابتدائی معاہدے کا مکمل متن ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آیا، تاہم ایک باخبر ذریعے کے مطابق ایران کو مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت فی الحال ملنے والی رعایتوں سے بھی زیادہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ بعد میں ایسا حتمی معاہدہ طے پا جائے جو ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق امریکا کے بنیادی اہداف کو پورا کرتا ہو۔مذکورہ مفاہمتی یادداشت میں یہ شامل ہے کہ مذاکراتی مدت کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال کو برقرار رکھا جائے گا، جبکہ امریکا نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور خطے میں مزید فوجی دستے بھی نہیں بھیجے گا۔اس کے ساتھ ایک باہمی عزم بھی شامل ہے کہ یورینیم کی افزودگی اور افزودہ مواد کے ذخائر کے مستقبل پر حتمی معاہدے کے فریم ورک میں بات چیت کی جائے گی۔ اگر جامع معاہدہ طے پا جاتا ہے تو واشنگٹن ایک طے شدہ شیڈول کے مطابق پابندیاں مرحلہ وار ختم کرے گااور اس دوران خطے میں تعینات اضافی فوجی دستے بھی واپس بلائے جائیں گے۔ ایران کے منجمد مالی اثاثوں کا معاملہ بھی سب سے حساس نکات میں شامل ہے۔ معاہدے کے مطابق یہ رقوم معاہدے پر عمل درآمد کی صورت میں استعمال کے لیے دستیاب ہوں گی، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی اثاثے کی رہائی کارکردگی کے بدلے مراعات کے اصول کے تحت ہوگی، یعنی یہ ایران کی زمینی پیش رفت سے مشروط ہوگی۔مزید یہ کہ دستاویز میں آبنائے ہرمز کو قریبی مدت میں دوبارہ کھولنے کی شق بھی شامل ہے، جبکہ ایران 60 دن تک تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی ضمانت دے گا اور اس پر کوئی فیس نہیں لی جائے گی، اس کے بدلے امریکا بحری نقل و حرکت پر عائد پابندیوں میں بتدریج نرمی کرے گا۔معاہدے کے ناقدین امریکی انتظامیہ کے اندر یہ سمجھتے ہیں کہ تہران موجودہ مفاہمتی یادداشت سے حاصل ہونے والے فوائد سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ بعد میں ان جوہری رعایتوں کو پیش کرے جن کا مطالبہ واشنگٹن کرتا ہے۔اس کے برعکس امریکی حکام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایران کو ملنے والے کسی بھی معاشی یا مالی فوائد کو ایسے اقدامات سے جوڑا جائے گا جن کی تصدیق ممکن ہو اور وہ اشارہ کرتے ہیں کہ آنے والے چند ہفتے یہ واضح کریں گے کہ تہران اپنی ذمہ داریوں پر کس حد تک سنجیدہ ہے۔یہ اختلافات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مفاہمتی یادداشت ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ایران کے ساتھ معاملہ کرنے پر جاری بحث کو ختم نہیں کر سکی، بلکہ اس نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا ایران واقعی بنیادی نوعیت کی رعایتیں دینے کے لیے تیار ہے یا وہ صرف وقت حاصل کرنے اور اہم جوہری معاملات کو حتمی طور پر حل کیے بغیر معاشی و سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande