تہران نے واشنگٹن کو خبردار کیا ،اب لبنان پر کسی بھی اسرائیلی حملے کو امریکہ ایران امن معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا
تہران/واشنگٹن/بیروت، 16 جون (ہ س)۔ امریکا ایران امن معاہدے کے 24 گھنٹے بعد تہران نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ اگر اسرائیل اب لبنان پر حملہ کرتا ہے یا اس کی سرزمین پر قبضہ کرتا ہے تو اسے امریکا ایران امن معاہدے کی براہ راست خلاف ورزی تصور کیا جائے گا
تہران


تہران/واشنگٹن/بیروت، 16 جون (ہ س)۔ امریکا ایران امن معاہدے کے 24 گھنٹے بعد تہران نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ اگر اسرائیل اب لبنان پر حملہ کرتا ہے یا اس کی سرزمین پر قبضہ کرتا ہے تو اسے امریکا ایران امن معاہدے کی براہ راست خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ تہران کے اس موقف سے مستقبل میں اس معاہدے کے متاثر ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ لبنان کے صدر اور وزیر اعظم نے اس معاہدے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ امریکہ کے نائب صدر نے کہا کہ 19 جون کو جنیوا (سوئٹزرلینڈ) میں معاہدے پر باضابطہ دستخط کے بعد ایک جوہری نگرانی ٹیم ایران بھیجی جائے گی۔

الجزیرہ اور این بی سی نیوز نے رپورٹ کیا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کار جلد ایران واپس آئیں گے۔ تہران کے ساتھ 60 روزہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں کوئی ٹول نہیں ہوگا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد تین ایرانی آئل ٹینکرز اور دو مال بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔ معاہدے کے اہم فریق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ امریکی ایران معاہدے کے باوجود اسرائیلی افواج جنوبی لبنان پر اپنا قبضہ برقرار رکھیں گی۔

جنیوا میں معاہدے پر دستخط سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل لبنان پر حملہ کرتا ہے یا اس ملک پر قبضہ جاری رکھتا ہے تو تہران اسے امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کرے گا۔ عراقچی کا انتباہ نیا نہیں ہے، کیونکہ اس تنازعے کے آغاز سے ہی ایران کا موقف رہا ہے کہ ایران اور لبنان الگ محاذ نہیں ہیں۔ وہ ایک محاذ ہیں، تاہم، عراقچی کا تازہ پیغام واضح ہے: تہران اپنے اتحادی حزب اللہ کو نہیں چھوڑے گا۔ اسرائیل نہ صرف جنگ بندی سے ناخوش ہے بلکہ بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ لبنانی سرزمین پر اپنا قبضہ ختم نہیں کرے گا۔

ایران اپنا جوہری پروگرام روک دے: جے ڈی وینس

اطلاعات کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالباف جمعہ (19 جون) کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کریں گے اور اس کے بعد امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کریں گے۔ معاہدے کے اعلان کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی منصوبے کا انکشاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران کو اپنا جوہری پروگرام روکنا ہوگا۔ امن معاہدے کی مکمل تفصیلات جنیوا میں دستخط کی رسمی تقریب کے بعد جاری کی جائیں گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کچھ تکنیکی تفصیلات پر کام ہونا باقی ہے جس کی وجہ سے معاہدے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ وینس نے کہا کہ ہم نے ایرانی قیادت سے بات کی اور خطے کے کئی ممالک سے مشاورت کی۔ قطر اور پاکستان نے اس خاص معاہدے کی ثالثی میں اہم کردار ادا کیا۔ وینس نے مزید کہا کہ ایران میں جوہری مواد کے معائنے کے آغاز کی تاریخ بھی جمعے کو طے کی جا سکتی ہے۔

ٹرمپ نے کہا- یہ جھوٹی خبر ہے۔

وہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تعمیر نو کے لیے امریکی فنڈنگ کی خبروں کو جعلی خبر قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا، یہ خبر کہ امریکہ ایران کو 30 لاکھ کروڑ ڈالر دے رہا ہے، یہ 'جعلی خبر' ہے، جسے ڈیموکریٹس نے پھیلایا ہے۔ اس سے قبل یہ بھی بتایا گیا تھا کہ معاہدے کے تحت ایران کو تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر مل سکتے ہیں۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے پیر کو کہا کہ معاہدے کے تحت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو جنگ کے بعد تعمیر نو کے لیے کم از کم اتنی رقم کا منصوبہ پیش کرنا ہو گا۔ اہم بات یہ ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں تعمیر نو کے فنڈ کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے اخراجات خلیجی خطے کے اتحادی برداشت کریں گے۔

لبنانی صدر اور وزیراعظم نے بات چیت کی۔

امن معاہدے کے اعلان کے بعد لبنان کے صدر جوزف عون نے بیروت کے قریب صدارتی محل میں وزیراعظم نواف سلام سے ملاقات کی۔ ملاقات میں مفاہمت کی یادداشت کے اعلان کے بعد خطے میں ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ عون کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں نے اگلے ہفتے واشنگٹن میں لبنان-امریکہ-اسرائیل مذاکرات کے اگلے دور کی تیاریوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ بیان میں اس معاہدے کو خطے میں کشیدگی کو کم کرنے، پرامن حل کی طرف بڑھنے اور حالت جنگ کے خاتمے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا گیا ہے۔

بڑے بینکوں نے تیل کی قیمتوں کاتخمینہ کم کیا۔

معاہدے کے بعد بینکوں نے تیل کی قیمتوں کا تخمینہ کم کر دیاہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے ابتدائی معاہدے کے بعد گولڈمین سیکس، مورگن ا سٹینلے اور سٹی جیسے بڑے سرمایہ کاری کے بینکوں نے تیل کی قیمتوں کا تخمینہ کم کر دیاہے۔ گولڈمین سیکس نے چوتھی سہ ماہی کے لیے اپنی برینٹ خام تیل کی قیمت کی پیشن گوئی کو 90 ڈالرسے گھٹا کر 80ڈالر اور 2027 کے لیے اوسطاً 80ڈالر سے 75ڈالر کر دیا۔ بینک کا خیال ہے کہ خلیجی ممالک سے برآمدات اگست کے آخر کے بجائے جولائی کے آخر تک جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آجائیں گی۔ مورگن اسٹینلے نے اس سال کی چوتھی سہ ماہی کے لیے برینٹ خام تیل کی قیمت کی پیشن گوئی 15ڈالر فی بیرل کم کرکے 80ڈالر اور تیسری سہ ماہی کی پیشن گوئی 100ڈالر سے 90ڈالر کردی۔ مورگن اسٹینلے نے کہا کہ ہم نے توقع کی تھی کہ پیداوار کا ریمپ اپ جولائی کے آخر میں شروع ہو جائے گا، لیکن اب ہمارا اندازہ ہے کہ یہ جولائی کے وسط میں شروع ہو جائے گی۔ اس کے بعد، ہمارا تخمینہ ہے کہ ستمبر تک پیداوار 50فیصد اور دسمبر تک 80فیصد ہو جائے گی، باقی پیداوار 2027 کے اوائل میں واپس آ جائے گی۔ مورگن اسٹینلے نے کہا۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande