
نئی دہلی، 16 جون (ہ س)۔ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کی حمایت سے چلائے جانے والے ایک بین الاقوامی دہشت گرد و جرائم پیشہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے سات ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ ماڈیول پاکستان میں مقیم گینگسٹر سے دہشت گرد بننے والے شہزاد بھٹی اور اس کے ساتھی اجمل گجر کی ہدایات پر کام کر رہا تھا۔ یہ نیٹ ورک پنجاب کے راستے ڈرون کے ذریعے پاکستان سے اسلحہ، کارتوس اور منشیات منگوا کر دہلی-این سی آر میں ان کی سپلائی کرتا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ بروقت کارروائی کے ذریعے دہلی-این سی آر میں کئی ممکنہ دہشت گردانہ وارداتوں کو ناکام بنا دیا گیا۔
پولیس کے ڈپٹی کمشنر نارا چیتنیہ نے منگل کو بتایا کہ اسپیشل سیل کی مشرقی رینج کو مئی 2026 کے وسط میں خفیہ اطلاع ملی تھی کہ شہزاد بھٹی اور اجمل گجر سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کر کے دہلی-این سی آر میں حملوں کی سازش رچ رہے ہیں۔ اس اطلاع کی بنیاد پر پولیس نے سب سے پہلے غازی آباد کے لونی علاقے کے رہائشی موہت عرف یوگی (26) کو دہلی کے یمنا وہار میں واقع بھگیرتھ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے قریب سے گرفتار کیا۔ اس کے قبضے سے ایک غیر قانونی پستول، چار زندہ کارتوس اور اجمل گجر سے متعلق چیٹس اور وائس نوٹس والا موبائل فون برآمد کیا گیا۔
موہت سے پوچھ گچھ کے بعد پورے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا۔ اس کی نشاندہی اور تکنیکی تحقیقات کی بنیاد پر پولیس نے انس عرف انس تیاگی، دیپک عرف دیپک اگراولا، عارف عرف پردھان، کرن ویر سنگھ، جتن اور صابر کو گرفتار کر لیا۔ تاہم اسپیشل سیل نے دیگر ملزمان کی گرفتاری کے درست مقام اور وقت کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
گرفتار شدگان میں لونی کے رہائشی انس تیاگی (26)، موہت عرف یوگی (26)، ٹرونیکا سٹی کے رہائشی دیپک اگراولا (38)، لونی کے عارف عرف پردھان (30)، پنجاب کے فتح گڑھ صاحب کے رہائشی کرن ویر سنگھ (26)، ٹرونیکا سٹی کے جتن (29) اور **لونی کے صابر (30) شامل ہیں۔ ان میں سے کئی ملزمان قتل، ڈکیتی، اقدام قتل، گینگسٹر ایکٹ، آرمز ایکٹ اور این ڈی پی ایس ایکٹ کے مقدمات میں پہلے بھی ملوث رہ چکے ہیں۔ دیپک کے خلاف 23 مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ موہت، عارف، انس اور مفرور ملزم عامر زیادہ سود پر قرض دینے کا کام کرتے تھے۔ علاقے میں اپنا رعب و دبدبہ قائم رکھنے کے لیے وہ غیر قانونی اسلحہ رکھتے تھے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ان کا رابطہ اجمل گجر سے ہوا، جو انسٹاگرام پر جدید ہتھیار فراہم کرنے کا دعویٰ کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ ان کی براہ راست بات چیت پاکستان میں موجود شہزاد بھٹی سے ہونے لگی۔
پولیس کے مطابق عارف نے اجمل گجر سے ایک پستول ایک لاکھ روپے میں خریدی تھی۔ اس کی ادائیگی دبئی میں کام کرنے والے افراد کے بینک اکاؤنٹس کے ذریعے یو پی آئی ٹرانزیکشن کے ذریعہ کی گئی تھی۔
تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ یہ گروہ پنجاب سرحد پر ڈرون کے ذریعے پاکستان سے بھیجی گئی ہیروئن اور غیر قانونی اسلحے کی کھیپ حاصل کرتا تھا، جسے بعد میں دہلی-این سی آر میں سپلائی کیا جاتا تھا۔
پولیس کے مطابق یہ گروہ ڈیڈ ڈراپ تکنیک استعمال کرتا تھا، جس میں اسمگل شدہ سامان ایک طے شدہ مقام پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور دوسرا شخص وہاں سے اسے اٹھا لیتا ہے۔ اس طریقے سے نیٹ ورک کے ارکان کی براہ راست ملاقات نہیں ہوتی تھی اور پولیس کی نگرانی سے بچنا آسان ہو جاتا تھا۔
اسپیشل سیل کا دعویٰ ہے کہ شہزاد بھٹی اور اجمل گجر نے ملزمان کو دہلی-این سی آر کے کئی حساس مقامات، عوامی جگہوں اور ہریانہ کے ایک مشہور ریسٹورنٹ کی ریکی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ملزمان نے ان مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر پاکستان میں موجود ہینڈلرز کو بھیجی تھیں۔ پولیس کے مطابق اس کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا تھا۔
تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انس نے منڈولی جیل میں بند بدنام زمانہ مجرم دیپک اگراولا کا تعارف اجمل گجر سے کروایا تھا۔ الزام ہے کہ دیپک نے جیل میں موبائل فون استعمال کرتے ہوئے نیٹ ورک سے رابطہ برقرار رکھا۔ بعد ازاں اس نے اپنے ساتھی جتن کی مدد سے غیر قانونی اسلحے کی کھیپ منگوائی۔
اسپیشل سیل نے ملزمان کے قبضے سے پانچ جدید سیمی آٹومیٹک پستول، 41 زندہ کارتوس، سات موبائل فون اور ایک اسکارپیو گاڑی برآمد کی ہے۔ موبائل فونز سے شہزاد بھٹی اور اجمل گجر سے متعلق چیٹس، وائس نوٹس اور دیگر ڈیجیٹل شواہد بھی ملے ہیں۔
تحقیقات کے دوران کئی بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں، جن کا استعمال اسلحہ اور منشیات کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کے لین دین کے لیے کیا جاتا تھا۔
ڈپٹی کمشنر پولیس نارا چیتنیہ نے بتایا کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ مفرور ملزمان کی تلاش کی جا رہی ہے اور پاکستان سے چلائے جانے والے اس نیٹ ورک سے وابستہ درمیانی رابطہ کاروں، سپلائرز اور دیگر فائدہ اٹھانے والوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد